سندھ: فائرنگ میں پانچ ہلاک، چودہ زخمی

فائل فوٹو، لیاری میں آپریشن تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں گدو تھرمل پاور سٹیشن کے احاطے میں زیر تعمیرپاور ہاوس کے باہر مظاہرے کے دوران فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے رینجرز طلب کر لی جس نے کشیدہ صورت حال پر قابو پا لیا۔

رینجرز کی آمد سے قبل متاثرہ لوگوں نے کشمور اور صادق آباد روڈ پر لاشیں رکھ کر دھرنا دیا جسے بعد میں رینجرز نے کھلوا دیا۔

گود تھرمل پاور ہاوس کے برابر میں ایک اور بجلی گھر کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

صحافی علی حسن کے مطابق مختلف وجوہات کی بناء پر ٹھیکےدار کمپنی اور مقامی لوگوں کے درمیاں جاری تنازع جمعہ کی صبح اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب زیر تعمیر پاور ہاوس پر ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی گارڈ اور مظاہرین کے درمیاں فائرنگ کا تبادلہ ہو گیا۔

پولس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے تمام لوگوں کا تعلق مزاری قبیلے سے ہے جبکہ زخمیوں میں دو پولس اہلکار، دو سکیورٹی گارڈ اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

واقعہ کے فوری بعد سینکڑوں مسلح لوگ زیر تعمیر پاور ہاوس کے باہر جمع ہو گئے تھے۔

علاقے کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے تنازع جاری تھا کہ مقامی لوگ ٹھیکےدار کمپنی سے روز گار چاہتے تھے لیکن صورت حال تین روز قبل کشیدہ ہو گئی تھی جب غلام محمد مزاری نامی ایک محنت کش رات کے وقت ہلاک ہو گیا تھا۔

غلام محمد پاور ہاوس میں مزدوری کا کام کرتے تھے۔

مقامی صحافی کہتے ہیں کہ ہسپتال کے مطابق وہ دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے لیکن اس کے ورثاء کا کہنا تھا کہ انہیں زہر دے کر مارا گیا ہے۔

ٹھیکےدار کمپنی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جو اپنا موقف بتا سکتا۔ ایس ایس پی عمر سلامت سے رابطے کی بہٹ کوشش کی گئی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں