اپر دیر: چیک پوسٹ پر حملہ، اہلکار ہلاک

دیر فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption پاک افغان سرحدی علاقے میں تقریباً دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا: مقامی افراد

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع پردیر میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد سے ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے بقول سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کرنل عارف نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعہ کو آپر دیر کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے کڑاکڑ میں قائم پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر سرحدپار سے شدت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور اس دوران پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں تقریباً دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور اس دوران دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر اپر، دیر لوئر اور چترال میں سرحد پار سے طالبان کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی آرہی ہے۔ اس سے قبل بھی مالاکنڈ ڈویژن کے طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر چار پانچ حملوں کے دعوے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ لوئر دیر میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران پولیس اہلکاروں اور حکومتی حامی افراد پر حملے کئے گئے ہیں جس میں باپ بیٹا ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک سال قبل چترال اور دیر کے اضلاع میں پاک افغان سرحدی علاقوں سے شدت پسندوں کی طرف سے پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں پر متعدد مرتبہ حملے کئے تھے جس میں سو کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ان حملوں میں جب اضافہ ہوا تو پاکستان نے اس کا الزام افغان حکومت پر عائد کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان واقعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی سرحد پار سے ہونے والے ان حملوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوج کو جوابی کاروائی کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں