پولیس عملے کی توندوں پر رپورٹ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس حکام کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ ایسے پولیس ملازمین ہیں جن کی کمر مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے

پنجاب پولیس کے سربراہ حبیب الرحمان نے صوبے بھر میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کی توند کی پیمائش کے لیے ہر ضلع میں کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔

ان کمیٹیوں کے سربراہ متعلقہ ضلع کے ڈی پی او ہوں گے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق آئی جی پنجاب نے جون کے مہینے کے آغاز میں صوبے کے تمام پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی توند کم کریں۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے صوبہ کے تمام ڈی پی اوز کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اہلکاروں کی کمر کی پیمائش کر کے اس کی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کریں۔

ان کے احکامات کے تحت پولیس عملے کی کمر کی پیمائش اڑتیس انچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ کمر کی پیمائش مقررہ حد سے زیادہ ہونے کی صورت میں پولیس ملازمین سے آپریشنل ڈیوٹی واپس لے لی جائے گی۔

پنجاب پولیس میں تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار اہلکار ہیں جو صوبے بھر میں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

ان احکامات کے بعد بہت سے پولیس افسروں اور اہلکاروں نے پارکوں اور جم کا رخ کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ ایسے پولیس ملازمین ہیں جن کی کمر مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔

پنجاب پولیس کی ترجمان نیبلہ غضنفر نے بتایا کہ ڈی پی اوز کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد پولیس افسروں اور اہلکاروں کو کمر کم کرنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہے اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں