پارلیمان میں راجہ پرویز اشرف کی کارکردگی

راجہ پرویز اشرف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم بننے سے قبل راجہ پرویز اشرف موجودہ پارلیمان میں چھتیس ماہ وزیر رہے

پاکستان میں امورِ پارلیمان پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم فیفن کے مطابق ملک کے نومنتخب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا شمار گیلانی کابینہ کے ان پانچ وزراء میں ہوتا ہے جنہیں پارلیمان میں سب سے زیادہ سوالات کا سامنا رہا۔

راجہ پرویز اشرف گیلانی کابینہ میں پہلے مارچ دو ہزار سے آٹھ سے فروری دو ہزار گیارہ تک وفاقی وزیرِ بجلی و پانی اور پھر اپریل دو ہزار بارہ سے کابینہ کی تحلیل تک وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدوں پر فائز رہے۔

اس طرح انہوں نے موجودہ پارلیمان میں اپنے اکیاون مہینوں میں سے چھتیس بطور وزیر گزارے۔

فیفن کی جانب سے راجہ پرویز اشرف کی پارلیمان میں کارکردگی کے بارے میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بطور وزیرِ پانی و بجلی وہ ملک میں جاری توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اکثر ارکانِ اسمبلی کے سوالات کا نشانہ رہے۔

تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق انہوں نے بطور وزیرِ پانی و بجلی ان کی وزارت سے پوچھے گئے سوالات میں سے چالیس فیصد کے ہی جوابات دیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجہ پرویز اشرف کی بطور وزیرِ بجلی کارکردگی ملک میں توانائی کی کمی پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے ’داغدار‘ رہی اور انہوں نے ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے تو بارہا کیے لیکن ’ان کے قومی اسمبلی کے اندر اور باہر دیے گئے جوابات اور دعوے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے‘۔

فیفن کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے تناظر میں ارکانِ پارلیمان نے راجہ پرویز اشرف کے دور میں پانی و بجلی کی وزارت سے ایک ہزار ایک سو سینتالیس سوالات کیے جن میں وزارت نے سات سو یا ساٹھ فیصد سوالات کے ہی جواب دیے۔

بطور وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اپنے دو ماہ کے دورِ وزارت میں انہوں نے صرف دو سوالات اور ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیا۔

رپورٹ کے مطابق راجہ پرویز اشرف کے بطور وزیرِ پانی و بجلی دور میں انہوں نے دو بل متعارف کروائے۔ ان میں دو ہزار دس کا متبادل توانائی ترقی بورڈ کا بل اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ بل 2010 شامل ہیں۔ ان میں سے متبادل توانائی بورڈ بل دو ہزار دس میں جبکہ موخر الذکر بل دو ہزار گیارہ میں پاس ہوا۔

اسی بارے میں