گیلانی حکومت کے اقدامات کو آئینی تحفظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیرِاعظم گیلانی کی نااہلی کی مدت کا آغاز چھبیس اپریل سے ہوا تھا

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے چھبیس اپریل سے انیس جون تک کے اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔

یہ آرڈنینس تیئس جون کی شب کو جاری کیا گیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس صدارتی آرڈنینس کے تحت ان اقدامات کی آئینی حیثیت کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

اس آرڈنینس کے مطابق پاکستان، اس دورانیہ میں کیے گئے تمام بین الاقوامی معاہدوں کا بھی پابند رہے گا۔

اس مدت کے دوران وزارتِ عظمٰی کے اہم اقدامات میں بجٹ کے علاوہ اعلٰی عدالتوں کے چند ججوں کی تقرری بھی شامل ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعظم کو توہینِ عدالت کے جرم میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے انیس جون کو دیے گئے اپنے فیصلے میں وزیرِاعظم کی نااہلی کی مدت کا آغاز چھبیس اپریل سے کیا جس کی وجہ سے اس صدارتی آرڈنینس کی ضروت پیش آئی۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس آرڈنینس کو ممکنہ طور پر پیش آنے والے چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے یہ حکم نامہ ’نیک نیتی‘ میں جاری کیا ہے اور سابق وزیرِ اعظم کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینا لازمی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں کوئی مشکلات پیش آئیں تو ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیراعظم کی نااہلی کے بعد عدالت میں ان کے چھبیس اپریل کے بعد کے اقدامات کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے درخواستیں بھی دائر ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں