دیر: فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images

پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو افغان سرحد سے منسلک دیر بالا کے علاقے میں شدت پسندوں کے حملے میں تیرہ فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ چار اب بھی لاپتہ ہیں۔

پاکستانی فوج کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات افغانستان سے 100 سے زیادہ شدت پسندوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں گشت پر موجود پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم کی ان کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ چودہ شدت پسند بھی مارے گئے۔

پاکستانی فوج کے افسر کے مطابق ’جھڑپ کے دوران گیارہ سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہوگئے جن میں سے سات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا اور پھر ان کے سر تن سے جدا کر دیے گئے۔‘

فوجی افسر کے مطابق اس واقعے کے بعد پیر کی صبح پونے بارہ بجے کے قریب لوئر دیر کے علاقے میں بھی سرحد پار سے شدت پسندوں نے پاکستان کے اندر دو راکٹ داغے اور فائرنگ بھی کی۔

فوجی افسر کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے سرحد پار افغان فوج سے شدید احتجاج کیا ہے کہ ’وہ افغانستان میں موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے‘۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کر کے افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر شدت پسندوں کی دخل اندازی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سفارت کار کو مطلع کیا گیا کہ افغانستان کی حکومت مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو فون کر کے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے اپر دیر کے علاقے برآول درّے میں سکیورٹی فورسز کے ایک گشتی دستے پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید دعوٰی کیا کہ ہلاک ہونے والے سترہ اہلکاروں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں۔

سرحدی دراندازی، ’پاک فوج انتہائی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے‘

دیر چوکی پر فوج کا کنٹرول بحال: تصاویر

حکام نے دیر بالا میں افغان سرحد کے پار سے آنے والے شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امورِ داخلہ سے متعلق وزیرِ اعظم کے مشیر رحمان ملک نے افغان وزیرِ داخلہ سے اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے افغان وزیر سے کہا کہ دونوں ممالک میں یہ طے پایا تھا کہ وہ اپنی اپنی سرحدوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان تو اپنا فرض پورا کر رہا ہے لہذٰا افغانستان بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور چار سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا ہے۔

انہوں نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کارروائی کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ایک دو روز میں کیا جائے گا۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام کو افغانستان سے آنے والے مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک پیٹرولنگ ٹیم پر حملہ کیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے حملے میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جبکہ اس واقعے میں چند سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان سرحد سے متصل دیر بالا میں اس سے پہلے بھی متعدد بار سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی حکام کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند سرحد پار کر کے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور ان حملوں کے خلاف پاکستان متعدد بار افغان حکام سے باضابطہ احتجاج بھی کر چکا ہے۔

گزشتہ سال سرحد پار سے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر پاکستان کے وزیراعظم نے افغان صدر حامد کرزئی سے کہا تھا کہ سرحدی دراندازی پر پاکستانی فوج انتہائی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں