دوہری شہریت: زاہد اقبال کی رکنیت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے سے متعلق دائر درخواستوں پر حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی زاہد اقبال کی رکنیت معطل کردی ہے۔

اس سے پہلے حکمراں جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے مشیر داخلہ رحمان ملک کی سینیٹ اور فرح ناز اصفہانی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کی جاچکی ہے۔

عدالت نے زاہد اقبال کی قومی اسمبلی کی رکنیت کی معطلی کے احکامات سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دوہری شہرت سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی تو درخواست گُزار وحید انجم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود جن ارکان پارلیمنٹ نے دوہری شہریت حاصل کر رکھی ہے اُنہوں نے کوئی ایسے شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ اُنہوں نے رکن پارلیمنٹ بننے سے پہلے دوہری شہریت چھوڑ دی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بارہا نوٹسز جاری کرنے کے باوجود اُن پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ زاہد اقبال کو اس سے پہلے بھی متعدد بار اپنے پاسپورٹ عدالت میں جمع کروانے کے بارے میں کہا گیا تھا لیکن اُنہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ زاہد اقبال کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل پر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنا چاہتے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اُنہیں صفائی کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ معطلی کے دوران اگر زاہد اقبال اپنے حق میں دستاویزات عدالت میں پیش کریں اور عدالت اُنہیں تسلیم کرے تو اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کردی جائے گی۔

زاہد اقبال پنجاب کے شہر ساہیوال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ پنجاب میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے دوران مظاہرین نے زاہد اقبال کے گھر پر پتھراؤ کیا تھا جس کا اُنہوں نے پنجاب حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے کے ذمہ دار ہیں۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی جمیل اعوان نے اپنی دوہری شہریت کا اعتراف کیا تاہم اُنہوں نے اس مقدمے کی سماعت کی مد میں اعتراض میں اٹھایا گیا۔

داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کے وکیل انور منصور نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنے موکل کا پاکستانی پاسپورٹ جمع کرواسکتے ہیں جس پر اُنہوں نے بیرون ممالک کا سفر کیا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو پاسپورٹ کی نہیں بلکہ برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق مستند دستاویزات درکار ہیں۔

عدالت نے رحمان ملک کے وکیل سے کہا کہ وہ جلد از جلد اپنے موکل کی برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں۔

عدالت نے ان درخواستوں کی مد میں اشرف چوہان، وسیم قادر، نادیہ گبول، فرحت خان اور ندیم خان کو دوبارہ نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

اسی بارے میں