بریگیڈیئر علی کا کورٹ مارشل مکمل

بریگیڈئیر علی تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption بریگیڈیئر علی خان کے خلاف فوجی صدر دفاتر پر حملے کا الزام واپس لے لیا گیا تھا

پاکستانی فوج میں بغاوت پھیلانے اور ملکی اقتدار پر ناجائز طریقے سے قبضے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنے والے فوجی افسر بریگیڈیئر علی خان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

بریگیڈیئر علی کو پچھلے سال چھ مئی کو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا ۔

فوج کے ایک میجر جنرل کی قیادت میں پچھلے سال دسمبر میں سیالکوٹ میں شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی قریباً چھ ماہ جاری رہنے کے بعد بیس جون کو راولپنڈی میں اختتام پذیر ہوئی۔

اس دوران پانچ فوجی افسروں نے استغاثہ کے گواہان کے طور پر بریگیڈیئر علی کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ ملزم نے انہیں فوجی اور سول قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا۔

فوجی قواعد کے تحت مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فوجی عدالت اپنا فیصلہ تحریر کر کے اپنے کمانڈنگ افسر کو ارسال کرے گی، جو اس مقدمے میں گوجرانوالہ کے کور کمانڈر ہیں۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی کی تفصیل فوجی سربراہ کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ہی اس فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔

فوجی روایات کے مطابق اس سارے عمل میں چند ہفتوں سے لے کر کئی ماہ تک لگ سکتے ہیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں بریگیڈیئر علی خان کو موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں بریگیڈیئر علی خان کا دفاع کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ بیس جون کو انہوں نے عدالت کے سامنے حتمی دلائل دیے جس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور انہیں اور ان کے مؤکل کو فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

انعام الرحیم نے مقدمے کی سماعت کے دوران فوجی عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ بریگیڈیئر علی فوجی عدالت کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے لہذا ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی بد نیتی پر مبنی ہے اور بریگیڈیئر علی کو القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ان کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے عوامی مطالبے کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے یہ دونوں نکات لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ایک پٹیشن کی صورت میں بھی پیش کیے لیکن چھ مرتبہ جج تبدیل ہونے اور پانچ ماہ تک نوٹسز جاری ہونے کے باوجود پاکستانی فوج نے ان نکات کے جواب عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے۔

کرنل انعام الرحیم کے مطابق منگل کے روز لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج خواجہ امتیاز نے انہیں بتایا کہ ان کی درخواست پر فیصلہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سنایا جائے گا۔

اسی بارے میں