ڈرون حملہ، حقانی نیٹ ورک کے چھ جنگجو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان ڈرون حملوں پر امریکہ سے کئی بار احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ کے مطابق حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملہ صدر مقام میرانشاہ سے ساٹھ کلومیٹر دور شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں کنڈغر کے مقام پر کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق ڈرون طیارے سے دو میزائل ایک کمپاؤنڈ پر داغے گئے جس میں چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بتایا گیا ہے۔

جس جگہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے وہ پاک افغان سرحد سے متصل ہے اور یہاں جنگل ہے۔

حکام کے مطابق اس جنگل میں حافظ گل بہادر گروپ، پنجابی طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ٹھکانے خصوصاً افغانستان جانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی، جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کے لیے بھی یہی راستہ استعمال ہوتے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دارالحکومت کابل سمیت مختلف علاقوں میں اتحادی افواج پر ہونے والے حملوں میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے اور اس کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

امریکہ پاکستان سے متعدد بار حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے کافی تناؤ پایا جاتا ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں اور کئی بار باضابطہ طور پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے جب کہ پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر چکی ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈون حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

اسی بارے میں