پشاور: امن لشکر سربراہ سمیت چار لاشیں برآمد

پشاور فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں امن لشکر کے سربراہ اور تین ساتھیوں کی لاشیں ایک گاڑی سے برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق ان افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں فہیم خان اور ان کے تین ساتھی ہیں۔

فہیم خان بازید خیل امن لشکر کے سربراہ تھے۔ پولیس کے مطابق یہ چاروں لاشیں پشاور میں رنگ روڈ کے قریب ایک لینڈ کروزر گاڑی سے برآمد ہوئی ہیں۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان امن لشکروں کے خلاف کارروائی کرتے رہیں گے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد فہیم پر تین خودکش حملے ہوئے تھے جن میں وہ بچ گئے تھے۔ ان حملوں کا ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

محمد فہیم کے دو محافظ بارہ جون کو اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب ان کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت محمد فہیم گاڑی میں سوار نہیں تھے۔

قبائلی علاقے درہ آدم خیل اور باڑہ کے سرحد پر واقع پشاور کے مضافاتی علاقے بازید خیل اور متنی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے امن لشکر اور شدت پسند تنظیموں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں