سبی دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زخمی ہونے والے پچیس افراد کو سول ہسپتال سبی ، جعفرآباد اور کوئٹہ منتقل کر دیا گیا

بلوچستان کے شہر سبی میں بدھ کی رات ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سبی ریلوے اسٹیشن پر اس وقت ایک زوردار دھماکہ ہوا جب راولپنڈی سے آنے والی جعفرایکسپریس سبی سے کوئٹہ روانگی کے لیے تیار تھی۔

جبکہ پچیس کے زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر مختلف ہسپتالوں کو منتقل کردیاگیا۔

سبی میں حکام کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے پلیٹ فارم نمبردو پر قائم چائے کی دکان پر دھماکہ خیز مواد رکھا جس کے پھٹنے سے ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

اس دھماکے میں اب تک آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جن میں سے اکثر کا تعلق پنجاب اور سندھ سے بتایا گیا ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے پچیس افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی ، جعفرآباد اور کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

سبی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اس دھماکے کا مقدمہ درج کیا ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

کوئٹہ میں ریلوے حکام کے مطابق دھماکے کے بعد سٹیشن پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور کوئٹہ سے اندرون ملک جانے اور آنے والے ٹرینوں کو روک دیا گیا اور یہ ٹریفک جمعرات کی صبح ہی دوبارہ بحال کی گئی ہے۔

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے بہترعلاج معالجے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹرینوں پر کئی حملے ہوئے ہیں جن میں سے اکثر کی ذمہ داری بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی ٹرین کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں