پنجاب:ہڑتال کرنے والوں کی جگہ فوجی ڈاکٹر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت ان کے سروس سٹرکچر کا اعلان کرے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کرنے والے نوجوان سرکاری ڈاکٹروں نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں سے مذاکرات ترک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی جگہ فوج کے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

سنیچر کو پنجاب کے نوجوان سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کا تیرہواں دن تھا اور اس ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور عملاً بند ہیں اور مریضوں کا معائنہ نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے نوجوان ڈاکٹروں کو ہڑتال ختم کرنے کے لیے جو تین دن کی مہلت دی گئی تھی وہ سنیچر کو ختم ہوگئی تاہم ابھی تک ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت ان کے سروس سٹرکچر کا اعلان کرے۔ پنجاب حکومت اور نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات بھی ہوئے جو بے نتیجہ رہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹروں کے مطالبات منظور کرنے کے لیے حکومت کو بیس سے بائیس ارب کی رقم چاہئے جو صوبائی حکومت کی طاقت سے باہر ہے۔

انہوں نے ڈاکٹروں کا ہڑتال کو بلاجواز قرار دیا اور واضح کیا کہ پنجاب کے ڈاکٹر کی تنخواہ دیگر صوبوں کے ڈاکٹروں سے زیادہ ہے اور گزشتہ سال حکومت نے ڈاکٹروں کی مراعات کے لیے پانچ ارب روپے کے پیکچ کا اعلان کیا تھا۔

صوبائی مشیر خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ حکومت نے اپنی حکمت تیار کر لی ہے اور مریضوں کے علاج کے لیے متبادل بندوبست کر لیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق حکومتِ پنجاب کی درخواست پر فوج کے ایک سو پچاس ڈاکٹرز فراہم کیے گئے ہیں جو اپنی یونیفارم میں ڈیوٹی دیں گے۔ بیان کے مطابق ڈاکٹرز بھیجنے کا فیصلہ مریضوں کی مشکلات کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا ہے اور یہ ڈاکٹر صرف طبّی مشورے اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کریں گے جبکہ ہسپتالوں کے انتظامی امور صوبائی حکومت کی ہی ذمہ داری ہوں گے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نئے ڈاکٹر بھی بھرتی کر رہی ہے اور یہ تمام ڈاکٹرز پیر سے صوبے کے مختلف ہپستالوں میں ڈیوٹی دیں گے۔

لاہور میں میو ہسپتال میں آنے والے مریضوں نے بھی ڈاکٹروں کی ہڑتال پر احتجاج کیا اور ہسپتال کے باہر ڈاکٹروں کے خلاف نعرے لگائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے ڈاکٹروں تعینات کیا جائے۔

خواجہ سلمان رفیق نے خبردار کیا کہ اگر ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم نہ کی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں جائے گی اور اس ضمن میں سروسز ایکٹ کو نافذ کر دیا گیا ہے۔

سنیچر کو ہی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس میں سینیئر ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کرانے کے لیے حکومت سے چوبیس گھنٹےں کی مہلت مانگی ہے اور اس بارے میں ہونے والی پیش رفت سے اتوار کو حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔

اسی دوران ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان کا حتجاج اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم نے اعلان کیا کہ پانچ جولائی کو لاہور میں وزیرِاعلیٰ سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی تو احتجاج کا دائر بڑھا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں