تیراہ: بم دھماکے میں پانچ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امن لشکر اور عسکریت پسندوں کی درمیان جاری جھڑپوں میں شدت آنے کی وجہ سے سینکڑوں خاندان وادی تیرہ سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک بم دھماکے میں شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے پانچ جنگجو ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبرایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا یہ واقعہ سنیچر کو وادی تیراہ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے خڑہ ویلہ میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ لشکر اسلام کے ایک درجن کے قریب شدت پسند ایک پہاڑی مورچہ سنبھالے ہوئے تھے کہ اس دوران وہاں پڑی ہوا بارودی مواد اچانک ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاورخان وزیر نے بتایا کہ بعض مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ بتائی ہے لیکن سرکاری طور پر پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ عسکریت پسند بم بنا رہے تھے یا دھماکہ خیز مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ خڑہ ویلہ وادی تیراہ کا ایک دورہ افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے موجود ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حکومت کے حامی لوگوں کا ایک لشکر بھی ہے جو ایک عرصے سے لشکر اسلام کے جنگجوؤں سے لڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بعد ہزاروں افراد بےگھر ہوکر جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں