جنگ زدہ علاقوں میں پاک فوج کا ایف ایم ریڈیو

ایف ایم 96
Image caption ایف ایم 96 اس وقت پاکستان کی مختلف زبانوں میں نشریات پیش کر رہا ہے

پاکستانی فوج نے خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کے جنگ زدہ علاقوں میں ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ کے نام سے ’کمیونٹی پراجیکٹ‘ شروع کر دیا ہے۔

اس پراجیکٹ پر تنقید کرنے والوں کے مطابق فوج ریڈیو پاکستان کا ایک متوازی ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان فوج کا ایک خطرناک کمرشل وینچر ہے۔

بینکنگ، سیمینٹ، شوگر ملز، ٹرانسپورٹ، فرٹیلائزر، لینڈ، کنسٹرکشن اور دیگر شعبوں میں فوج کے ذیلی اداروں کی سرمایہ کاری کے بعد اب ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ کے نام سے قائم کمپنی کو پاکستان ٹیلی ویژن کے ذیلی ادارے ’شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈ کاسٹنگ کمپنی‘ کا ذیلی ادارہ بنایاگیا ہے۔

پروپیگنڈہ کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا:عائشہ صدیقہ

فوج کے زیرانتظام اس ریڈیو نیٹ ورک کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن، فاٹا کی اورکزئی کے علاوہ تمام ایجنسیوں اور بلوچستان میں کوئٹہ، پنجگور، خضدار اور دیگر علاقوں میں نشریات سنی جا سکتی ہیں۔ اردو، پشتو، بلوچی اور براہوی زبانوں میں فی الوقت نشریات چل رہی ہیں۔ زیادہ تر نشریات میوزک، ثقافتی پروگرامز، قومی اور ملی نغموں پر مشتمل ہے۔

خبروں اور حالات حاضرہ پر ابھی کم وقت صرف ہوتا ہے۔ کئی پروگرامز ایسے ہیں جس میں براہ راست سامعین فون کرکے گیتوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے انڈین گانے نشر نہیں ہوتے لیکن فوج کے زیر انتظام ایف ایم نیٹ ورک سے زیاد تر انڈین گانے نشر ہوتے ہیں۔

ایف ایم ریڈیو کے منصوبے کے سربراہ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ کے حاضر سروس کرنل ہیں۔ کرنل عقیل ملک کہتے ہیں کہ یہ فوج کا کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ’کمیونٹی سروس‘ کا پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جنگ زدہ علاقوں سے کون سے اشتہار ملیں گے؟‘

Image caption ایف ایم ریڈیو کے سربراہ عقیل ملک کا کہنا ہے کہ یہ کوئی کاروباری منصوبہ نہیں ہے

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب مالاکنڈ ڈویژن میں مولانا فضل اللہ نے متعدد غیر قانونی ایف ایم سٹیشن کھولے اور لوگوں کو جہاد کے لیے اکسایا تو فوج نے وہ ختم کیے اور سوات آپریشن کے دوران ریاست کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہاں مصیبت زدہ لوگوں کو تفریح اور معلومات فراہم کرنے کے لیے ایف ایم ریڈیو سروس شروع کی جائے۔

کرنل عقیل ملک نے بتایا کہ ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ وزارت اطلاعات و نشریات کی منظوری سے قائم ہوا ہے۔ ان کے مطابق ’اپ لنکنگ‘ کی سہولت پی ٹی وی نے فراہم کی ہے، جبکہ وزارت اطلاعات، پی ٹی وی، شالیمار ریکارڈنگ کمپنی اور فوج کے تعاون سے یہ چل رہا ہے اور غیر ملکی امداد سے چلنے کا تاثر درست نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ریڈیو پاکستان ایک ریاستی ادارہ ہے، ان کے پاس تجربہ اور تیکنیکی مہارت بھی ہے، ایسے میں فوج کو نیا ریڈیو نیٹ ورک بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کی یلغار ہے اور ریاست کا موقف عوام تک پہنچانے کے لیے مزید ادارے لازم ہیں۔ان کے بقول اکیسویں صدی معلومات کی صدی ہے اس میں ریاستی مفادات کی تشریح کے لیے اور بھی ادارے بنیں گے۔

کرنل عقیل ملک کہتے ہیں کہ ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ کو وسیع کیا جائے گا لیکن اس کی تفصیل انہوں نے نہیں بتائی۔ بی بی سی کے پاس دستیاب ایک دستاویز کے مطابق اس نیٹ ورک کا چوالیس سٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

Image caption ایف ایم ریڈیو پر لوگ فون کر کے گانوں کی فرمائش کرتے ہیں

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج ریڈیو پاکستان کا ایک متوازی ادارہ قائم کرنا چاہتا ہے اور مستقبل میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن کرنل عقیل ملک کہتے ہیں کہ اس سے ریڈیو پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ جنہوں نے فوج کے کاروباری مفادات پر کتاب بھی لکھی ہے، انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے جب نیشنل لاجسٹک سیل ’این ایل سی‘ قائم کیا تو اس وقت بھی یہ کہا گیا کہ یہ عارضی ادارہ ہے اور فوج اپنی ٹرانسپورٹیشن کے لیے اُسے چلائے گی۔ لیکن ان کے بقول بعد میں ’این ایل سی‘ ریلوے کی تباہی کا سبب بنا کیونکہ زیادہ تر کارگو انہوں نے لے لیا۔

کرنل عقیل ملک سے جب اس ادارے کے ذریعے فوج کی ’میڈیا انڈسٹری‘ میں شرکت پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فوج کے ترجمان سے پوچھا جائے۔ لیکن جب فوج کے ترجمان سے رابطہ کیا تو کچھ روز کے انتظار کے بعد انہوں نے بات کرنے سے معذرت کرلی۔

اسی بارے میں