فوج کا ریڈیو، ’پروپیگنڈہ کا اہم ذریعہ‘

Image caption فوج کو پیسہ حکومت دیتی ہے اس پر کنٹرول بھی حکومت کا ہونا چاہیے:عائشہ صدیقہ

تجزیہ نگار اور محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج کے زیر انتظام چلنے والا ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ فوج کا ایک خطرناک کمرشل وینچر ہے اور یہ فوج کا پروپیگنڈہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔

پاکستانی فوج کے وسیع تر کاروباری مفادات کے بارے میں کتاب کی مصنفہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے ریڈیو نیٹ ورک سے پاکستان ریڈیو شدید متاثر ہوگا اور اس کا حال ایسا ہوگا جیسا نیشنل لاجسٹک سیل نے ریلوے کا کیا ہے۔

ان کے بقول ریلوے میں بدعنوانی اپنی جگہ لیکن ان کا اسّی فیصد کارگو بزنس فوج کے ٹرانسپورٹ ادارے این ایل سی نے لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ فوج اس کو پاکستان کا سب سے بڑا ایف ایم نیٹ ورک بنانا چاہتی ہے اور پچاس سٹیشن قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول فوج نے دو دہائیوں سے اپنے سکالر، صحافی، کالم نگار تیار کیے ہیں اور ان کے تعلقات عامہ کے شعبے سے فارغ ہونے والے افسران کو ملازمتیں دینے کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔

’اس میں بہت پیسہ ہے۔ امریکی امداد ہو یا دیگر غیر سرکاری عالمی تنظیمیں، ان کے پاس جنگ زدہ علاقوں میں انٹرٹینمنٹ کی مد میں کافی بجٹ پڑا ہے اور وہ ان سے امداد لیں گے اور باہر سے پیسہ لیں گے‘۔

اس سوال پر کہ یہ تو ایک انٹرٹینمینٹ چینل ہے، عائشہ نے کہا کہ انٹرٹینمنٹ کے ذریعے بھی پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔ ’ کوئی پتہ نہیں کہ فوج کے اس چینل سے حکومت کے خلاف کیا زہر اگلا جائے گا اور دوست ممالک کے خلاف کیا زہر اگلے گا‘۔

ڈاکٹر عائشہ نے مزید کہا کہ فوج کے ایف ایم چینل پر ادارتی کنٹرول حکومت کا ہونا چاہیے۔ ’میرے خیال میں اگر ایف ایم 96 بغیر حکومتی ادارتی کنٹرول کے چلے گا تو ریاست کے اندر ریاست کا جو مسئلہ ہے اسے مزید تقویت پہنچے گی‘۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’کیا پتہ کہ کل کوئی ملا ٹائپ لوگ اس کو چلا رہے ہوں ۔۔ کون چیک کرے گا۔۔ فوج کو پیسہ حکومت دیتی ہے اس پر کنٹرول بھی حکومت کا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی پہلے ہی پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک ذیلی ادارہ ہے تو ایک ذیلی ادارے کا مزید ذیلی ادارہ بنانے کا مقصد کیا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ کے حساب کتاب کے آڈٹ کا اختیار آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو نہیں ہوگا بلکہ نجی آڈٹیٹر ہوگا۔ ان کے مطابق ’سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے رولز بہت برے ہیں اور میں آپ کو آٹھ ہزار میں اچھے ادارے کا آڈٹ سرٹیفکیٹ دلوا دیتی ہوں‘۔

’ایف ایم 96 انٹرنیشنل ریڈیو نیٹ ورک‘ کے سربراہ کرنل عقیل ملک کے اس بیان پر کہ اس ادارے کو پروفیشنل لوگ چلاتے ہیں، ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ عسکری بینک کا کیا ہوا؟

ان کے بقول اس بینک میں پروفیشنل بینکر بھرتی کیے گئے لیکن فیصلے کا اختیار نان پروفیشنل اور میجر جنرل ٹائپ لوگوں کے پاس تھا اور وہ بینک اب ڈوب رہا ہے کیونکہ ’فوجی یونٹ کی طرح اداروں کو چلاتے ہیں‘۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے مزید کہا کہ اس چینل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سب بیوروکریٹ شامل ہیں اور اس کا چیئرمین وزارت اطلاعات کا سیکرٹری ہوگا اور ’سول بیورو کریٹ کو جو کوئی فوجی فون کرتا ہے تو وہ تو تھر تھر کانپتا ہے‘۔

انہوں نے ایک دستاویز دکھائی اور بتایا کہ اس کے بورڈ میں چھ ڈائریکٹر ہیں جس میں پانچ ڈائریکٹرز کا ایک ایک روپے کا شیئر ہے جبکہ ایک ڈائریکٹر جو فوجی ہوں گے ان کا شیئر پچاس ملین روپے کا ہے۔

ان کے بقول یہ ادارہ بھی ایسا ہوگا جیسے نیشنل لاجسٹک سیل، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یا بحریہ بیکری ہے۔

اسی بارے میں