کراچی میں نگرانی کے جدید کیمرے نصب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں سابقہ شہری حکومت نے تین سو کیمرے لگائے تھے لیکن وہ جدید نہیں تھے

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں جرائم کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں نو سو سے زیادہ نگرانی کے جدید کیمرے شہر کے مختلف علاقوں میں نصب کر دیے گئے ہیں جو جلد ہی کام شروع کر دیں گے۔

کیمروں کے علاوہ پولیس کو جی ایس ایم مانیٹرنگ ٹیکنالوجی بھی دی جا رہی ہے جس کے ذریعے پولیس جرائم پیشہ افراد کے زیر استعمال موبائل فون کے مقام کا پتہ بھی معلوم کر سکے گی جس سے ان کی گرفتاری میں پولیس کو مدد ملے گی۔

اِن جدید کیمروں کے نصب کیے جانے کے بعد اب پولیس جرم ہوتا دیکھ سکے گی اور اس کے پاس یہ عذر بھی ختم ہو جائے گا کہ اسے جرم کی بروقت اطلاع نہیں ملی۔

صوبۂ سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس مشتاق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں جدید کیمرے نصب کرنے کا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو سو ستّر کیمرے ایک سو چونسٹھ اہم مقامات پر نصب کیے گئے ہیں جن میں شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی، ریڈ زون کا علاقہ جس میں گورنر ہاؤس، وزیراعلٰی ہاؤس، کلفٹن سمیت ضلع جنوبی کے زیادہ تر علاقے شامل ہیں۔

ان کے بقول یہ پہلا مرحلہ مکمل کیا گیا ہے اور اب دوسرے مرحلے میں مزید علاقوں میں بھی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیمرے نصب ہو چکے ہیں اور حتمی تجربات بھی تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں جس کے بعد اب یہ کیمرے چند ہی دنوں میں کام شروع کر دیں گے۔

نگرانی کے مقصد سے لگائے گئے اِن کیمروں کے لیے ایک سینٹرل کنٹرول روم بنایا گیا ہے جو پولیس ہیڈ آفس میں واقع ہے۔

اس سلسلے میں متعلقہ پولیس اہلکاروں کو ان کیمروں کو آپریٹ کرنے کے لیے تربیت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔

صوبۂ سندھ کے محکمۂ داخلہ کے معاون شرف الدین میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں سابقہ شہری حکومت نے تین سو کیمرے لگائے تھے اور شہر کے ریڈ زون میں بھی ایک سو کیمرے نصب کیے گئے تھے لیکن ان کیمروں میں وہ خصوصیات نہیں ہیں جو جدید کیمروں میں ہیں۔

جدید کیمروں کی خصوصیات بتاتے ہوئے شرف الدین میمن نے کہا کہ یہ انتہائی حساس کیمرے ہیں، ان کو تین سو ساٹھ کے زاویے پر گھمایا جا سکتا ہے اور اس کیمرے میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کا سافٹ ویئر کسی بھی شخص یا گاڑی جو کم عرصے میں دو یا تین مرتبہ اس کے سامنے سے گزرے گی تو خبردار کر دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے نصب کیے جانے والے کیمرے انتہائی احساس ہونگے اور ان کو تین سو ساٹھ کے زاویے پر گھمایا جا سکتا ہے: پولیس

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جیسے لندن کے بم دھماکوں میں جو مشتبہ افراد گرفتار ہوئے تھے، نیویارک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، وہ ان ہی جدید کیمروں کی مدد سے کیا گیا تھا۔ ان کے بقول کیمرہ نیٹ ورکنگ موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے اور یہ وہ جدید آلات ہیں جن سے پولیس کو بہت مدد ملے گی۔

شرف الدین میمن نے کہا کہ جب یہ کیمرے کام کرنا شروع کر دیں گے تو بینک ڈکیتیاں، اے ٹی ایم مشین پر جو وارداتیں ہوتی ہیں، سٹریٹ کرائم، موبائل فون کی چوریاں، اور دیگر جرائم کی وارداتوں کے مشتبہ افراد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی یہاں تک کہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو بھی ان کیمروں کی مدد سے دیکھا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اِن جدید کیمروں کی مدد سے جرائم کی وارداتوں پر پچاس سے ساٹھ فیصد بھی کمی لائے جا سکے گی تو یہ شہر کے لیے انتہائی مفید ہوگا۔

’میں سمجھتا ہوں کہ کراچی اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں جدید خطوط پر پولیسنگ کرنی ہوگی تاکہ جرائم پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔‘

اسی بارے میں