نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے کی توثیق

رسد
Image caption پاکستان رسد پر کسی قسم کی راہداری کا معاوضہ نہیں لے گا

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز ہوئے اجلاس میں افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے لیے سامانِ رسد کی بحالی کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہوا جس میں دفاعی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔

امریکہ کی معافی اور رسد کی بحالی: آپ کی رائے

امریکہ کی جانب سےگزشتہ برس سلالہ حملے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر معذرت کے بعد پاکستانی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے منگل کی شب نیٹو کو زمینی راستے سے رسد کی فراہمی کی بحالی کا فیصلہ کیا تھا۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی فراہمی چھبیس نومبر دو ہزار گیارہ کو مہمند ایجنسی میں اتحادی فوج کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد روک دی گئی تھی۔

اس معذرت کے بعد منگل کی شب اسلام آباد میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ کمیٹی نے نیٹو کو زمینی راستے سے رسد کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی اور امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت کرنا پاکستان کے فائدے میں ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان کو افغانستان میں سے نیٹو، امریکہ اور آئساف افواج کے انخلاء کو سستا بنا کر اور مؤثر رسد کے راستے دے کر مدد کرنی چاہیے۔

’دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کے لیے رسد لے جانے کی اجازت ہے۔ تاہم نیٹو رسد میں مہلک سامان بھیجنے کی اجازت نہیں ہو گی ماسوائے وہ سامان جو افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے لیے ہو۔‘

دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نیٹو رسد سے راہداری فیس نہیں لی جائے گی۔ ’اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلے دن ہی سے ایشو مالی فائدے کا نہیں تھے بلکہ خومختاری کے اصولی فیصلے کا تھا۔‘

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نیٹو اور آئساف کے پچاس ممالک سے تعلقات خراب نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے اور ان کو قائل کریں گے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے اس لیے ان کو روکا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنے مؤقف میں لچک دکھائی ہے۔

سلالہ چیک پوسٹ حملے کے واقعے کے بعد بارہا پاکستان کی جانب سے امریکہ سے کہا گیا کہ وہ اس پر معافی مانگے تاہم امریکی حکام اسے خارج از امکان قرار دیتے رہے تھے۔

تاہم بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو فون کر کے ان ہلاکتوں پر معذرت کا اظہار کیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ہم پاکستانی فوج کے نقصان پر معذرت خواہ ہیں اور دوبارہ اس قسم کے واقعات سے بچاؤ کے لیے پاکستان اور افغانستان سے مل کر کام کر رہے ہیں‘۔

اس گفتگو کے بعد جاری کردہ بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی خوشی بھی ہے کہ پاکستانی وزیرِخارجہ نے انہیں مطلع کیا ہے کہ پاکستان کے زمینی راستے سے نیٹو کو رسد کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے اور پاکستان رسد پر کسی قسم کی راہداری کا معاوضہ نہیں لے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حنا ربانی کھر سے بات چیت کے دوران انہوں نےگزشتہ نومبر میں پیش آنے والے واقعے پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔

ہلری کلنٹن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ غلطیاں پاکستانی فوجیوں کے جانی نقصان کی وجہ بنیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان اور خطے کی سکیورٹی اور امن کی خاطر رسد پر کسی قسم کی راہداری کا معاوضہ نہیں لے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک خوشحال، پرامن اور محفوظ افغانستان کے لیے پاکستان کی حمایت کا ٹھوس ثبوت قرار دیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہیں حنا ربانی کھر نے بتایا ہے کہ زمینی رسد میں افغان فوج کو مسلح کرنے کے لیے درکار سامان کے علاوہ کسی قسم کا مہلک سازوسامان نہیں جائے گا۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے رسد کی بحالی کی اطلاعات پر کہا ہے کہ ’میں پاکستان کی جانب سے نیٹو کی رسد کے زمینی راستے سے بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں پہلے بھی واضح کر چکا ہوں، ہم پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری بہتر بنانے اور خطے میں مشترکہ سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘۔

اسی بارے میں