دوہری شہریت کی اجازت، مسودہ قانون منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ اب تک چھ اراکین کی اسمبلی رکنیت معطل کر چکی ہے

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت رکھنے سے متعلق قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جسے جلد ہی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔

دریں اثناء بدھ کو سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کی دوہری شہریت رکھنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی فرحت محمود خان اور سندھ اسمبلی کی رکن نادیہ گبول کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

دوہری شہریت رکھنے کے مسودے سے متعلق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی۔

اس مسودہ قانون کے تحت کوئی بھی شخص جو دوہری شہریت رکھتا ہو وہ رکن پارلیمان بھی بن سکتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق دوہری شہریت کے بل میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ جتنے بھی افراد ملک میں موجود ہیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں وہ نہ صرف انتخابات میں حصہ لے سکیں گے بلکہ دوہری شہریت بھی رکھ سکیں گے۔

اس بل کے کو پیش کرنے میں تیزی اُس وقت سے آئی جب سپریم کورٹ نے حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنا شروع کر دی۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے بظاہر اس بل کی مخالفت نہیں کی جائے گی کیونکہ اُن کے کچھ ارکان پارلیمنٹ بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

مزید دو اراکین کی رکنیت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بدھ کو سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کی دوہری شہریت رکھنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکمراں اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی فرحت محمود خان اور سندھ اسمبلی کی رکن نادیہ گبول کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

اس سے پہلے عدالت عظمیٰ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک اور پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے دو رکن قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کر چکی ہے۔

ان میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی، زاہد اقبال شامل ہیں جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے محمد جمیل ملک کی رکنیت معطل کر دی۔

فرحت محمود خان کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے دو سو پینتالیس سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ نادیہ گبول سندھ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئی تھیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دوہری شہریت سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی اور سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ فرحت محمود خان اور نادیہ گبول کو اس سے متعلق تین بار نوٹس جاری کیے گئے لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ دونوں افراد دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

ان درخواستوں میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی طارق الوانہ کی سفری دستاویزات سے متعلق عدالت کو گمراہ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف ائی اے کے ڈائریکٹر جنرل فیاض لغاری اور ڈائریکٹر لیگل کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو مقدمہ درج کرنے کی درخواست دینے کو کہا ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنے کے بارے میں حکم دیا ہے۔

طارق الوانہ سے متعلق ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ امریکی شہری ہیں اور اُنہوں نے تصدیق کی کہ وہ متعدد بار امریکہ جا چکے ہیں جبکہ جو ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا اُس کے مطابق طارق نامی شخص چکوال کا رہائشی ہے اور وہ امریکی شہری ہیں جبکہ رکن پنجاب اسمبلی طارق الوانہ منڈی بہاوالدین کے رہائشی ہیں اور اُن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے۔

اسی بارے میں