نیٹو کی رسد کی بحالی کا فیصلہ مسترد

امریکہ مخالف مظاہرہ(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت کو پارلیمان کی قرارداد کا احترام کرنا چاہیئے لیکن حکومت نے اس کے برعکس عمل کیا:نواز لیگ

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی اور دینی جماعتوں نے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے لیے سامانِ رسد کی بحالی کی منظوری کےفیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی مفاد اور پارلیمان کی قرارداد کے منافی قرار دیا ہے۔

دینی جماعتوں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمان میں حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے کو توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ نیٹو سپلائی کھولنے کا فیصلہ کرتے وقت حکومت نے پارلیمان کی متفقہ قرار داد کو نظر انداز کردیا۔

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ حکومت کو پارلیمان کی قرارداد کا احترام کرنا چاہئے لیکن حکومت نے اس کے برعکس عمل کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا ہی کرنا تھا تو پھر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نیٹو کی سپلائی کی بحالی کی مذمت کی اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ حکمرانوں پہلے سپلائی کی بندش کو قومی مفاد قرار دیا تھا اور اب اس کی بحالی کو کامیابی کہا جارہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معافی امریکہ نے مانگی ہے لیکن معذرت خوانہ رویہ ہمارا ہے۔ ان کےبقول ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم تھک چکے تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ معافی بھی نہ مانگیں اور صرف افسوس کا لفظ کہہ دیں جسے کو معافی سے تعیبر دے دیا گیا۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومتی فیصلے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمان کی اس قرار داد کی نفی ہے جو متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

عمران خان نے ارکان پارلیمان سے کہا کہ شرم کریں کہ بار بار قرار دادیں منظور کرتے ہیں لیکن ان قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ حکومت اور دنیا نے اس کی پارلیمان کی قرار داد کی پرواہ نہیں کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اسمبلی کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ اس اسمبلی کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے اس نے نہ تو ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا اور نہ ہی عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکی۔

ادھر دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سیمع الحق نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ کونسل آٹھ جولائی کو لانگ مارچ کرےگی۔

کونسل کے سربراہ نے کہا کہ حکومتی فیصلہ ملکی مفاد کے برعکس ہے اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر روز دیا کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فیصلے کو رد کردیں۔

اسی بارے میں