’متنازع قوانین میں اصلاحات کی فوری ضرورت‘

توہینِ قران کے خلاف مظاہرے فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زندہ جلائے جانے والے شخص کے کسی وارث نےابھی تک تھانے سے رابطہ نہیں کیا ہے۔پولیس

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی بے حرمتی سے متعلق جو متنازع قوانین ہیں، اس واقعے نے ان سے انسانی حقوق کو لاحق خطرات کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اگر اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا تو یہ ریاست کی ناکامی ہوگی اور اس سے یہ لوگوں کو یہ پیغام جائے گا کہ کوئی بھی شخص کسی کی بھی جان لے سکتا ہے اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا سکتا ہے کہ اس نے ایسا اپنے مذہبی جذبات کے دفاع میں کیا۔

تنظیم نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہبی توہین سے متعلق متنازع قوانین میں اصلاحات کے لیے فوری اقدامات کریں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں لوگوں کے ایک ہجوم کی جانب تھانے پر حملہ کرکے قرآن کی بے حرمتی کے ایک ملزم کو پولیس کی حراست چھڑانے کے بعد سرعام زندہ جلانے کے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر زرداری نے اسے بدقسمت واقعہ قرار دیا ہے اور مشیر داخلہ رحمن ملک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسکی فوری تحقیقات کراکے رپورٹ ایوان صدر میں جمع کرائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی مجرم ہو، کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘

صدر نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے میں قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

صدر زرداری نے بیان دیا ہے ’یہ ایک غیرمعمولی بات ہے۔‘

دوسری جانب بہاولپور کے نواحی گاؤں چنی گوٹھ کی پولیس نے تین ہزارا افراد کے خلاف ایک شخص کو زندہ جلانے کا مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن ایف آئی آر سیل کردی گئی اور فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق چنی گوٹھ پولیس کے انچارج سب انسپکٹر ملک غلام فرید نے بتایا کہ زندہ جلائے جانے والے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی، وہ بظاہر ذہنی معذور تھے اور علاقے میں برہنہ گھوم رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کسی دوسرے علاقے سے چنی گوٹھ میں آئے تھے اور ابھی تک ان کے کسی وارث نے تھانے سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہجوم میں شامل تین ہزار نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیاگیا ہے البتہ ایف آئی ار سیل ہوجانے کی وجہ سے ابھی کسی کو گرفتار نہیں کیاگیا۔

ادھر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک زندہ آدمی کو جلانے سے روکنے میں حکام کی ناکامی کی شدید مذمت کی ہے البتہ ہجوم میں شامل افراد کے خلاف مقدمے کے اندراج کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس قتل میں شامل تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے خیبر ایجنسی میں خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کی کارکن فریدہ آفریدی کے قتل پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ پورے ملک بالخصوص فاٹا میں انسانی حقوق کےمحافظین اور پسماندہ طبقات کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور حکومت کو ان کے تحفظ اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں