’جج کے خلاف سچا بیان توہینِ عدالت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نئے قانون کے مسودے کے مطابق توہینِ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی مدت ساٹھ روز کر دی گئی ہے

پاکستان کی حکومت نے توہین عدالت کے پرانے قوانین منسوخ کر کے جو نیا قانون پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے تیار کیا ہے اس کے مطابق آئین کی شق دو سو اڑتالیس کی ذیلی شق ایک کے تحت جن عوامی عہدے رکھنے والے اشخاص کو استثنیٰ حاصل ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

کابینہ سے منظور ہونے والے چھ صفحات پر مشتمل ”کنٹیمپٹ آف کورٹ ایکٹ 2012” کے مسودے کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب ہے۔ مجوزہ بل کے تحت سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی مدت تیس روز سے بڑھا کر ساٹھ روز کی گئی ہے۔

نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جج کے بارے میں سچا بیان دیتا ہے جوکہ ان کی عدالتی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں مناسب الفاظ میں تبصرہ کرنا بھی توہین عدالت نہیں ہوگا۔

ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ توہین عدالت کا کوئی فیصلہ یا عبوری حکم اس وقت تک حتمی تصور نہیں ہوگا جب تک اس کے خلاف اپیل اور نظر ثانی کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں آتا۔

توہین عدالت کے نئے مجوزہ قانونی مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی جج کے خلاف سکینڈلائیز کرنے کا معاملہ ہوگا تو وہ جج وہ مقدمہ نہیں سن سکتا اور چیف جسٹس بینچ بنائیں گے۔ کسی جج کی عدالتی کارروائی سے ہٹ کر ان کے خلاف اگر کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ پوری عدالت کو سکینڈلائیز کرنا نہیں تصور ہوگا۔

اگر چیف جسٹس کو سکینڈ لائیز کرنے کا معاملہ ہوگا تو چیف جسٹس کے فرائض دو سب سے سینیئر دستیاب جج نمٹائیں گے۔

انٹرا کورٹ آرڈر یا عبوری حکم کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے ملک میں موجود تمام ججوں پر مشتمل بڑا بینچ سنے گا۔ اگر کسی فریق کی اپیل نصف ججوں نے سنی تو اس کے خلاف اپیل یا نظر ثانی کی درخواست فل کورٹ کرے گا۔

مجوزہ مسودے کے مطابق کوئی ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے بارے میں کسی ایسے معاملے کو توہین عدالت کے تحت نہیں سنے گی جس کے بارے میں ضابطہ فوجداری میں سزا تجویز کی گئی ہو۔ نئے قانونی مسودے میں بھی توہین عدالت کی سزا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

عدالت کے سامنے دوران سماعت توہین کرنے والے شخص کو عدالت حراست میں لینے کا حکم دے سکتی ہے لیکن اُسی روز انہیں ضمانت پر رہا کرے گی۔ لیکن ان کے خلاف اگر بعد میں مقدمہ چلتا ہے تو انہیں مزید سزا دی جا سکتی ہے۔

نئے قانون کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کے دونوں ایوان ہوں یا صوبائی اسمبلی، ان میں اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو سپیکر یا چیئرمین سینیٹ یا افسر صدارت کارروائی سے حذف کرتے ہیں تو وہ باتیں بطور ثبوت کہیں پیش نہیں ہوں گی اور اس بارے میں توہین عدالت بھی نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں