’ملا عمر نے سن لیا تو ناراض ہوجائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ کی معذرت کے بعد پاکستان کی حکومت نے نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی بحال کر دی ہے

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی شیریں جناح کالونی میں ایک آئل ٹینکر کے مالک نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ ’اگر ملا عمر نے سن لیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔‘

تحریک طالبان کے امیر ملا عمر افغانستان میں اتحادی افواج کے آنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے اور کئی سالوں کے بعد بھی اتحادی افواج ان کا پتہ نہیں لگا سکی ہیں، کابل سے لیکر کراچی تک ان کا نام احتیاط سے لیا جاتا ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو کی رسد کی فراہمی کی بحالی پر ہونے والے مذاکرات میں ٹینکروں اور ڈرائیوروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے کوئی اقدامات تجویز نہیں کیے گئے ہیں، جبکہ کالعدم تحریک طالبان ان پر حملوں کی دھمکی دے چکی ہے۔

بدھ کو ٹینکر مالکان سے جب میں نے اس دھمکی کے بارے میں بات کرنا چاہی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ریڈیو کے لیے تو ہرگز بات نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے سنا ہے کہ ملا عمر ڈائریکٹ ریڈیو سنتے ہیں اور وہ یہ سن کر ناراض ہو جائیں گے۔

میں نے ان سے گزارش کی کہ ویڈیو کیمرے کے سامنے بات کر لیں کیونکہ ان کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہوگا اور وہ انہیں دیکھ نہیں سکیں گے جس کے بعد وہ بات کرنے کے لیے رضامند ہوگئے۔

ویڈیو انٹرویو کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انہیں علم تو سب باتوں کا ہے مگر کھل کر بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ساحل سمندر پر ُاس وقت کرکٹ کھیلتے ہوئے نوجوان ڈرائیوروں اور کلینروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیکھو کتنے پیارے پیارے بچے ہیں آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں یا یہ جو آئل ٹینکر جس کی مالیت اسی لاکھ سے ایک کروڑ روپے ہے اس پر حملہ ہو یا اسے جلا دیا جائے۔

شیریں جناح کالونی اور آس پاس میں موجود اکثر آئل ٹینکر ایک جیسے ہیں، اب ان میں سے نیٹو کو رسد کی فراہمی میں کون سے استعمال ہوتے ہیں ان کی نشاندہی صرف ان ٹینکروں کے ڈرائیور یا مالکان ہی کر سکتے ہیں۔

ان ٹینکروں کے ڈرائیوروں اور مالکان کی اکثریت پشتون ہے جبکہ ہزارہ اور سرائیکی علاقوں کے لوگ بھی اس کام سے منسلک ہیں، اگر کسی ڈرائیور سے کوئی معلومات حاصل کرنی ہوں تو اس کے لیے ٹینکر مالکان کی تنظیم کی مدد ضرور درکار ہوتی ہے اس حوالے سے انہوں نے بعض لوگ تیار بھی کر لیے جو اپنا موقف روانی سے بیان کر سکتے ہیں۔

پشتون ڈرائیور زیادہ تر بات کرنے سے کتراتے ہیں جبکہ ان کے پاس تشدد اور حملوں کی کئی داستانیں موجود ہیں، ایک ایسے ہی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ایک پشتون ڈرائیور نے بتایا کہ اسلام آباد کے مضافات میں حملے کے بعد جب ان کے ایک ساتھی ڈرائیور نے میڈیا سے بات کی تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گاؤں میں موجود رشتے داروں کو دھمکیاں دی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں نیٹو سپلائی کے آئل ٹینکرز اور کنٹینرز پر حملوں کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں

اس ٹرک اڈے پر ایسے آئل ٹینکر بھی مل جائیں گے جن پر فائرنگ ہوئی اور ایسے ڈرائیور بھی موجود ہیں جو خود زخمی ہوئے یا ان کا کوئی پیارا مارا گیا۔

امریکہ کی معذرت کے بعد پاکستان کی حکومت نے نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی بحال کر دی ہے، جس کے بعد ان ٹینکروں کو لمبے سفر پر روانہ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹینکر تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے افغانستان میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔

کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے یہ ٹینکر ایندھن لیکر بذریعہ چمن اور طورخم افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، ان ٹینکروں پر پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں میں کئی بار حملے بھی کیے گئے ہیں۔ ویسے تو ان آئل ٹینکروں کا رنگ زرد اور سبز پٹی کے ساتھ ہوتا ہے مگر اب کچھ ٹینکروں کا رنگ سفید کر دیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں کا خیال ہے اس طرح وہ حملے سے بچ سکتے ہیں۔

آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، لیکن ڈرائیور کو نقصان پہنچے کی صورت میں یہ ٹھیکیدار یا آئل ٹینکر کے مالک پر منحصر ہے کہ وہ کتنی سخاوت دکھاتا ہے، یہاں کچھ ایسے ڈرائیور بھی موجود ہیں جو فائرنگ میں معذور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں