نیٹو سپلائی اور ملک صاحب!

نیٹو سپلائی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیٹو کی سپلائی سات ماہ بند رہنے کے بعد کھلی ہے

جیسے ہی لگ بھگ سات ماہ کی تحقیق کے بعد پاکستان کو پتہ چلا کہ نیٹو میں امریکہ کے علاوہ بھی ستائیس دیگر ممالک ہیں اور یہ ممالک بھی اہم ہیں اور ان ممالک کا سامان بھی امریکی سازوسامان کے ساتھ کراچی سے براستہ طورخم اور چمن افغانستان جاتا ہے تو پاکستان نے ایک دن کی بھی غیر ضروری تاخیر نہیں کی اور راستہ کھول دیا۔

شروع میں پاکستان کو کسی نے پٹی پڑھا دی تھی کہ سلالہ پر حملہ نیٹو طیاروں نے نہیں امریکہ نے کیا تھا۔ مگر بعد میں نیٹو کے سکریٹری جنرل نے شکاگو کی افغان کانفرنس میں پاکستان کو اعتماد میں لے کر چپکے سے بتا دیا کہ امریکہ بھی نیٹو کا حصہ ہے۔ یوں رفتہ رفتہ غلط فہمیاں دور ہوتی چلی گئیں۔ تاہم کچھ لوگوں کو اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اگر پاکستان نے پورے نیٹو کے لیے راستہ کھولا تو پھر اکیلے امریکہ سے کیوں معافی مانگنے پر اصرار کیا اور امریکہ نے پاکستان کو کیوں نہیں بتایا کہ بھیا ہم بھی نیٹو ہیں لہذا معافی کا مطالبہ برسلز کے نیٹو ہیڈ کوارٹرز سے کیجیے واشنگٹن کو کاہے کو گھسیٹتے ہیں۔

کچھ لوگ باگ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان سات ماہ تک غلط ملک سے معافی طلب کرتا رہا۔ پھر بھی امریکہ نے بڑے پن کا ثبوت دیا اور نا صرف نیٹو بلکہ امریکی جنرلوں، محکمہ دفاع کے جونئیر سٹاف اور وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی جانب سے ایک سے زائد بار آئی ایم سوری کہا گیا، معذرت کی گئی اور ہاتھ جوڑ کر یہ تک کہا گیا کہ او جا یار معاف کر۔

چنانچہ پاکستانی قیادت جو اس معاملے میں پارلیمنٹ اور قومی دفاعی کمیٹی کی رضا مندی کے بغیر نوالہ بھی نہیں توڑ رہی تھی ۔بلآخر اس کا دل پسیج گیا اور اتنا پسیجا کہ اس نے یہ تسلیم کر لیا کہ چونکہ اتنے زیادہ اہلکاروں نے معذرت کر لی ہے لہذا مزید کسی اعلی شخصیت کی جانب سے معافی مانگنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔یوں ایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

ویسے دیکھا جائے تو نیٹو سپلائی کھلنے میں سب کی جیت اور سب کا فائدہ ہے۔

امریکہ اور نیٹو کا فائدہ یوں ہے کہ روس کی جانب سے رسد افغانستان پہنچانے کا رستہ اور خرچہ گھٹ گیا۔

پاکستان کو یہ فائدہ ہوا کہ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ کوئی گرا پڑا ملک نہیں ۔اس نے اپنی مرضی سے سپلائی بند کی اور اپنی مرضی سے کھولی۔وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے اور حالات کی نزاکت اور اپنے مفاد کو نیٹو سے زیادہ سمجھتا ہے۔

فوجی قیادت کو یہ فائدہ ہوا کہ اس نے براہ راست رضامندی ظاہر کرکے اپنی انا کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے سیاسی حکومت کو بطور ڈاکخانہ استعمال کیا۔

دفاعِ پاکستان کونسل کو یہ فائدہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں صفر نمائندگی کے باوجود اسکی قیادت کو بھرپور میڈیا کوریج ملی اور آئندہ بھی ملتی رہے گی۔ حکومت اور فوج کو بھی اس بہانے یہ جتانے کا موقع ملا کہ انہوں نے دفاعِ پاکستان کونسل جیسی مقبول، جید اور دبنگ تنظیم کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لے کر ہی سپلائی کھولنے کا کڑوا گھونٹ پیا ہے۔ لہذا واشنگٹن اور برسلز اس فیصلے کو ہلکا نہ سمجھیں۔ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ دفاعِ پاکستان کونسل کی انتباہی سیاست سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کے ذیلی ادارے نیشنل لاجسٹک سیل کو بادلِ نخواستہ یہ ٹھیکہ دینا چاہئیے کہ وہ پچاس فیصد نیٹو سپلائی بذریعہ ریل بحفاظت پاک افغان سرحد تک پہنچائے۔

اور سب سے زیادہ فائدے میں وہ سینکڑوں ٹھیکیدار، ڈرائیور، کنٹینر سپلائر، کمیشن ایجنٹ اور نیٹو کی ٹرالیوں سے گنے کھینچ کر چوسنے والے شریر بچے ہیں جن کی روزی روٹی اور شغل ساڑھے سات ماہ بند رہا۔اس سے پہلے کہ ان میں سے بیشتر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خود کو رجسٹر کروا لیتے حکومت نے بروقت ایک اور دانشمندانہ قدم اٹھا لیا۔

اس پرمسرت موقع پر ان حاسدوں پر دھیان دینے کی چنداں ضرورت نہیں جو کہتے پھر رہے ہیں کہ جس پارلیمنٹ سے نیٹو سپلائی کھولنے کی شرائط منظور کروائی گئیں اسی پارلیمنٹ سے اب سپلائی کھولنے کی بھی منظوری لی جاوے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ جب سپلائی بند کرنا تھی تو پارلیمنٹ کو بندوق تھما کر چنے کے جھاڑ پر چڑھا دیا گیا اور کھولنے کا موقع آیا تو پارلیمنٹ سے بالا بالا ہی سیٹنگ کر لی گئی۔

نا تو پارلیمنٹ کی قرار داد کے مطابق ڈرون حملوں کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ ہوا ، نا ہی صدرِ امریکہ نے معافی مانگی اور نا ہی امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں پاکستان کی خدماتی رسیدوں پر یقین کرتے ہوئے ایک مدت سے پھنسی اجرت بے باق کرنے کی حامی بھری۔

میں ایسے حاسدوں کو ایک قصہ سنائے دیتا ہوں تاکہ انہیں نیٹو سپلائی بند کرنے اور کھولنے کے فیصلے کے پیچھے کار فرما دانش کا کچھ کچھ اندازہ ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں کئی مرتبہ نیٹو کو سپلائی مہیا کرنے والے ٹینکروں کو آگ لگائی گئی ہے

ہوا یوں کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران اوروں کی طرح پوٹھوار کے ایک ملک صاحب کو بھی حکم ملا کہ اپنے گاؤں سے کم ازکم بیس جوان فوج میں بھرتی کراؤ۔ ملک صاحب نے نوجوانوں کو بھرتی کے فوائد سمجھائے لیکن کوئی رضاکار آگے نا آیا۔ چنانچہ ملک صاحب نے اعلان کیا کہ اس گاؤں سے جو لڑکا بھی میرے ساتھ بھرتی مرکز تک چلے گا اسے میں ڈائریکٹ لفٹین بھرتی کراؤں گا۔ یوں ایک ہی دن میں بیس جوانوں کی بھرتی کا کوٹہ پورا ہوگیا۔

ایک ماہ بعد جب رنگروٹوں کو ٹریننگ سینٹر پہنچنے کا فوجی پروانہ آیا تو ہر ایک کے پروانے میں لفٹین کے بجائے سپاہی کا عہدہ درج تھا۔سب نوجوان ملک صاحب کے پاس خفا خفا پہنچے۔ملک صاحب نے معاملے کی سنگینی بھانپتے ہوئے اپنی بے لوث کوششوں کے بارے میں ایک جذباتی تقریر کی اور سینہ ٹھونک کر کہا کہ عالی جناب کرنل سائمن صاحب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں تمہارے سب لڑکوں کو لفٹین بنادوں گا بس ذرا مہلت دے دو۔ لیکن میں نے عالی جناب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ جب تک آپ اپنا عہد پورا نہیں کرتے تب تک ان تمام جوانوں کو کلف سے اکڑی شاندار وردی ، چمکیلی پیٹی، چمڑے کے دمکتے جوتے اور انتہائی صحت بخش وافر راشن مفت اور تنخواہ الگ سے دینی پڑے گی۔ یہ شرائط سنتے ہی تم یقین کرو عالی جناب کرنل سائمن صاحب کے پسینے چھوٹ گئے۔انہوں نے میرے پیش کردہ رومال سے پیشانی خشک کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک صاحب آپ نے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔لیکن آپ کی بات رکھنے کے لئے میں تمام شرائط منظور کرتا ہوں۔

تو میرے بیٹو کیا یہ کم کامیابی ہے تمہارے ملک صاحب کی۔۔۔۔۔۔

اس پر لڑکوں نے جذباتی ہو کر ملک صاحب کو کندھے پر اٹھا لیا ۔ انکے حق میں زبردست نعرے لگائے اور خوشی خوشی ٹریننگ کے لیے روانہ ہوگئے۔

اسی بارے میں