نیٹو کا پہلا کنٹینر افغانستان میں داخل

نیٹو کنٹینر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فغانستان میں داخل ہونے والے پہلے کنٹینر میں زیادہ ترپانی اور خوراک کا سامان تھا۔

پاکستان سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سپلائی دوبارہ بحال ہوگئی ہے اور چمن کے راستے نیٹو کا پہلاکنٹینر پاک افغان سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوگیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کی صبح پاکستان کے سرحدی شہر چمن میں کسٹم حکام کی جانب سے کلیئرنس کے بعد نیٹو کا پہلا کنٹینر افغانستان میں داخل ہوگیا۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔جیسے ہی پہلاکنٹینر افغان حدود میں داخل ہوا تو افغان اور نیٹو افواج کے نمائندوں نے کاغذات پر دستخط کر کے اسے باقاعدہ طور پر وصول کیا۔

نائب تحصیلدار چمن فضل باری کے مطابق افغانستان میں داخل ہونے والے پہلے کنٹینر میں زیادہ ترپانی اور خوراک کا سامان تھا۔

بقول انکے دواور کنٹینرز اس وقت کسٹم آفس میں کلیئرنس کے لیے تیار کھڑے ہیں جوآج کسی بھی وقت سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہونگے جبکہ ایک کنٹینر کا ڈرائیور ابھی تک چمن نہیں پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چوبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سازوسامان کی سپلائی بند ہوگئی تھی جس کے بعد صوبائی حکومت نےحفاظتی اقدام کے طور پر تمام آئل ٹینکرز اور کنٹینرز چمن سے واپس کراچی بھیج دیےتھے تاہم چار کنٹینرز کے ڈرائیور اپنے کنٹینرز چمن میں چھوڑ کر اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے۔

کسٹم حکام نے پاک افغان سرحد چمن کے مقام پر افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان سے سپلائی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔حکام کے مطابق کراچی سے چمن کے راستے نیٹو کی دوبارہ سپلائی آئندہ چند دنوں میں شروع ہو جائےگی۔

کوئٹہ میں کسٹم ذرائع کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزات داخلہ کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔تاہم صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ کراچی سے چمن تک سات سوکلومیٹر تک کے راستے پر نیٹوکے آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنا صوبائی حکومت کے بس میں نہیں ہے اس کے لیے وفاقی حکومت سے سیکورٹی کی مد میں امداد طلب کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ آٹھ ماہ قبل چمن کے راستے سپلائی بند ہونے سے پہلے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں نہ صرف نیٹو کے آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے تھے بلکہ راستے میں کئی کنٹینرز بھی غائب ہوئے تھے جس پرٹینکرز اور کنٹینرز مالکان نے کئی بار احتجاج بھی کیا لیکن آج تک ان واقعات میں ملوث افراد گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

دوسری جانب کراچی سے چمن تک سڑک پر قائم ہوٹل مالکان ، دکانداروں او دیگر کاروبار کرنے والوں نے نہ صرف نیٹو سپلائی کی بحال پر مسرت کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے ہوٹلوں اوردکانوں کا رنگ ورغن بھی شروع کردیا ہے۔

یاد رہے کہ نیٹوسپلائی بند ہونے کے بعد اس روٹ پر اکثرہوٹل اور دکانیں بھی بند ہوگئی تھی جس سے انکے مالکان کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

اسی بارے میں