نیٹو رسد کی بحالی پر امریکہ کا خیر مقدم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے پاکستان کی طرف سے افغانستان کو جانیوالی نیٹو رسد سپلائی لائینز یا گراؤنڈ لائنز آف کمیونیکیشن پھر سے کھولے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائن کھل جانے سے اسے امریکہ کو ہر ماہ کروڑوں ڈالر کی رقم کی بچت قرارد یا ہے۔

ادھر امریکی محکمۂ خارجہ نے پاکستان کے ایسے فیصلے کو دونوں ملکوں کے درمیاں تعلقات کیلیے خوش آئند قرارد دیتے ہوئے اسکی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائين پھر سے کھولے جانے کے بعد پہلے تین ٹرک پاکستان سے سرحد پار کر کر افغانستان پہنچے ہیں۔

جبکہ امریکی سیکرٹری دفاع لیون پینٹا نے پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد بحال کیے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

یہ بات امریکی فوج کے مرکز پینٹاگون سے امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نیوی کیپٹن جان کربی نے میڈیا کو ایک بیان میں بتائي ہے۔

امریکی محمکمہ دفاع کے اس سینئر ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائن پھر سے کھولے جانے کے فیصلے سے امریکہ کو افغانستان کے اندر اور افغانستان کے باہر سامان کی آمدورفت کی مد میں کروڑوں ڈالرز کی بچت ہوگی۔

امریکی فوج کے ترجمان نیوی کپتان جان کربی کا کہنا ہے کہ نیٹو رسد لائن پھر سے کھل جانے سے امریکہ کو ہر ماہ ستر ملین ڈالر سے لے کر ایک سو ملین ڈالر تک کی بچت ہوگي۔

جان کربی نے یاد دلایا ہے کہ امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے امریکی کانگرس کو بتایا تھا کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائین بند کرنے کے فیصلے سے امریکہ کو افغانستان میں اپنی فوجوں کو سامان رسد پہنچانے کی مد ہر ماہ ایک سو ملین ڈالر ہر ماہ اضافی ادا کرنا پڑ رہا تھا۔

ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائن پھر سے کھولے جانے کا فیصلہ دو نوں ممالک کے تعلقات کیلیے خوش آئند ہے۔

یہ بات واشنگٹن میں امریکی محکمہء دفاع کے ترجمان پیٹرک وینٹریل نے جمعرات کی دوپہر میڈیا کو اپنی روازانہ کی بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں بتائي ۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو رسد لائن رسد کھولے جانے کے فیصلے سے امریکہ بہت خوش ہے اور پاکستان کے ایسے فیصلے سے خطے میں افغانستان کے ایک محفوظ ،مضبوط اور خوشحال ملک بننے میں مدد ملے گی۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے اپنے تعلقات میں آگے کی طرف بڑھنے پر اپنے آپ کو مرتکز رکھے گا جس میں تجارت و سرمایہ کاری کےعلاوہ عوام کے عوام سے تعلقات بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے ایسی رپورٹوں کی تصدیق کرنے سے انکار کیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کی مد میں اس کے اخراجات یا کولیشن سپورٹ فنڈ جس کا مطالبہ پاکستان لمبی مدت سے کرتا آیا ہےکی ادائیگي کی گئي ہے۔

ایسے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ یہ سوال امریکی محکمہء دفاع سے پوچھا جائے تاہم محکمہ دفاع نے ایسی رپورٹوں تصدیق یا تردید میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اسی بارے میں