’اپنا جائز حق لینے کا ایک ہی راستہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال اٹھارہ روز سے جاری ہے

آج کے مہذب معاشروں میں احتجاج کو جمہوریت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اگر اس پیمانے پر پاکستان کو پرکھا جائے تو یقیناً پاکستان دنیا کی مضبوط ترین جمہوریتوں میں شامل ہے۔

شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب کہیں کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہو اور حکومت نے عوام کو اپنا یہ جمہوری حق استعمال کرنے کا موقع نہ دیا ہو۔

کبھی اساتذہ تو کبھی کلرک کبھی وکیل تو کبھی سرکاری ملازمین اور اب لوڈشیڈنگ نے تو پوری قوم کو ہی سراپا احتجاج بنا ڈالا ہے۔

سال میں بارہ مہینے تین سو پینسٹھ دن پاکستان میں کوئی اور کام ہو نہ ہو احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ان احتجاجی مظاہروں سے عام طور پر حکومت کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگتی بلکہ وہ انہیں جمہوریت کی موسیقی سمجھتے ہوئے بظاہر ان سے محظوظ ہوتی دکھائی دیتی ہے تاہم کبھی یہ جمہوریت کا یہ راگ بے ہنگم شور میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس میں چھپی عام آدمی کی چیخیں نام نہاد جمہوریت کو بھی جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ایسا ہی تو ہوا ہے جہاں حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان جاری تنارعے میں ابھی تک فریقین کی انا تو برقرار ہے اگر کسی نے شکست کھائی ہے تو اسی عام آدمی نے جس کی قسمت میں ازل سے رسوائی ہی لکھی ہے۔

ماہر عمرانیات مجاہد منصوری کہتے ہیں کہ ’پاکستانی معاشرہ اس وقت تبدیلی کے عمل سےگزر رہا ہے جہاں سنگین اقتصادی بحران بھی ہے اور ناانصافی بھی، ایسی صورتحال میں انفرادیت اور گروہی مفادات کا انسانی اقدار اور اخلاقیات پر حاوی ہونا حیران کن نہیں۔‘

دونوں جانب کی ہٹ دھرمی کے باعث ڈاکٹروں کی ہڑتال اٹھارویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔

ہڑتال کے بارے میں ینگ ڈاکٹرز کے ترجمان ڈاکٹر ناصر کا کہنا ہے کہ’ڈیڑھ برس کی یاد دہانیوں اور پرامن احتجاج سے اگر ان کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف کئی بار پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

انہوں نے کہا ’ان اٹھارہ دنوں میں سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والوں پر جو گزری اس کا مورد الزام تو حکومت اور ڈاکٹر ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔‘

اس صورتحال میں پاکستانی میڈیا کا جھکاؤ بھی کبھی ادھر تو کبھی ادھر ہوتا ہے۔

اس بارے میں پاکستان میں شہری آزادی کے حوالے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار سوک لیبرٹیز کے سربراہ ظفراللہ خان کا کہنا ہے کہ ’انسانی المیوں کو بیچنا موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کا طرز عمل بن چکا ہے۔ لیکن عوام کو اس سے دلچسپی نہیں کہ حکومت نے ڈاکٹروں سے وعدہ خلافی کی یا ڈاکٹروں نے اپنے حلف سے غداری۔ وہ تو اتنا جانتے ہیں ان کے دکھوں کا مداوا کسی پاس نہیں ہے۔‘

اپنے مالی فائدے کے لیے ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈوں میں کام بند کرنے کا اخلاقی جواز کیا ہے یا ڈاکٹرز سے سروس سٹرکچر کا وعدہ کر کے اسے پورا نہ کرنا کہاں کا انصاف۔ یہ دقیق بحث تو میڈیا پر کئی روز جاری رہے گی تاہم ایک سبق تو سب نے سیکھا ہے کہ حکومت سے اپنا جائز حق لینے کا ایک ہی راستہ ہے احتجاج، احتجاج جس قدر پرتشدد ہوگا اتنا ہی پر اثر بھی اور کامیابی کا فارمولہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں