نیٹو سپلائی کے خلاف لانگ مارچ کا آغاز

فائل فوٹو، کراچی میں احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لانگ مارچ کے دوران دفاع پاکستان کونسل کے قائدین مختلف شہروں میں رکیں گے اور وہاں مارچ میں شامل شرکاء سے خطاب کیا جائے گا

مذہبی جماعتوں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل نے حکومت کی جانب سے نیٹو سپلائی بحال کرنے کے خلاف لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

اتوار کو لانگ مارچ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے شروع ہوا ہے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگا۔

دفاع پاکستان کونسل کے مطابق لانگ مارچ جی ٹی روڈ سے ہوتا ہوا پیر کی شام کو اسلام آباد پہنچے گا جہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک جلسہ ہوگا۔

نیٹو رسد کی بحالی کا فیصلہ مسترد

لاہور کے وسط میں واقع ناصر باغ سے شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کی قیادت دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی قائدین مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، منور حسن، شیخ رشید اور جنرل ریٹائرڈ حمید گل کر رہے ہیں۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق لانگ مارچ کے دوران دفاعِ پاکستان کونسل کے قائدین مختلف شہروں میں رکیں گے اور وہاں مارچ میں شامل ہونے والے شرکاء سے خطاب کیا جائے گا۔

لانگ مارچ کے قافلے کا پہلے پڑاؤ گوجرانوالہ میں ہوگا جس کے بعد کونسل کے قائدین گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کریں گے۔

کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے گزشتہ روز سنیچر کو ملک میں حزب مخالف کی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کو لانگ مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔

دریں اثناء سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دفاع پاکستان کونسل کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موسم اچھا ہے اور لانگ مارچ ہونا چاہیے، حکومت مشروبات سے ان کی تواضع کرے گی۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نہ کونسل کے کہنے پر نیٹو سپلائی بند کی گئی اور نہ ان کے کہنے پر بحال کی گئی۔

ان کے بقول نیٹو کی بحالی کا فیصلہ ملک اور قوم کے مفاد میں کیا گیا ہے۔

دفاع پاکستان کونسل میں شامل کالعدم جماعت الدعوۃ کے رہنما یحییٰ مجاہد کے مطابق لانگ مارچ کے قافلے کی سکیورٹی کے لیے کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور کالعدم جماعت الدعوۃ کے تین ہزار کارکنوں سکیورٹی کے انتظامات کی نگرانی کریں گے جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے لانگ مارچ کا قافلہ جس جس شہر میں رکے گا اس شہر سے بھی قافلے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔

یحییٰ مجاہد نے بتایا کہ لانگ مارچ کے قافلے میں تین آٹو موبائل ورکشاپس بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں