توہین عدالت کا بل قومی اسمبلی سے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزب اختلاف کی جانب سے توہین عدالت کے بل کی مخالفت کی گئی

پاکستان کی قومی اسمبلی نے توہینِ عدالت کے ترمیمی بل دو ہزار بارہ کی منظوری دے دی ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد عدلیہ کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ادراوں کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ بل پیر کو اجلاس کے دوران حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا اور ایوان نے سادہ اکثریت سے اس کی منظوری دی۔

’جج کے خلاف سچا بیان توہین عدالت نہیں‘

’نئے قانون کے خلاف درخواستیں تیار ہو چکی ہوں گی‘

بل پیش کرنے کے لیے پارلیمان کے رولز معطل کیے گئے جبکہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے اراکین کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی۔

بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے اور وزیرِ قانون کے مطابق صدر کے دستخطوں کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا۔

بل کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ توہینِ عدالت کے قانون میں ابہام تھا جسے دور کرنے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’ملک میں پہلے انیس سو چھہتر کا توہینِ عدالت کا قانون تھا جس میں انیس سو اٹھانوے میں نواز شریف کے دور میں ترامیم کی گئیں۔اس کے بعد دو ہزار تین میں دو قانون آئے، پھر دو ہزار چار میں آئے۔ اب اس وقت ابہام یہ تھا کہ کون سا قانون اس وقت لاگو ہے‘۔’

فاروق نائیک نے کہا کہ اس بل کا مقصد توہینِ عدالت کے قانون کے حوالے سے موجود ابہام کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے اور اس میں کچھ بھی آئین اور قانون کے خلاف نہیں۔

ان کے مطابق اس نئے قانون میں جو تبدیلیاں لائی گئی ہیں ان کا مقصد برابری لانا ہے۔ ’اگر عدلیہ کو تحفظ حاصل ہے کہ ان کے فیصلوں پر تنقید نہیں کی جا سکتی تو ہم نے اس بل میں عوامی عہدوں پر فائز افراد کے سرکاری اقدامات کا تحفظ کیا ہے‘۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ ’ہم عدلیہ کی عزت کرتے ہیں اور اس نئے قانون میں عدالت سے کوئی حق نہیں لیا گیا ہے‘۔

توہینِ عدالت نے نئے قانون کے اہم نکات

پاکستان کی حکومت نے توہین عدالت کے پرانے قوانین منسوخ کر کے جو نیا قانون پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے تیار کیا ہے اس کے مطابق آئین کی شق دو سو اڑتالیس کی ذیلی شق ایک کے تحت جن عوامی عہدے رکھنے والے اشخاص کو استثنیٰ حاصل ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

مجوزہ بل کے تحت سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی مدت تیس روز سے بڑھا کر ساٹھ روز کی گئی ہے۔

نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جج کے بارے میں سچا بیان دیتا ہے جوکہ ان کی عدالتی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں مناسب الفاظ میں تبصرہ کرنا بھی توہین عدالت نہیں ہوگا۔

ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ توہین عدالت کا کوئی فیصلہ یا عبوری حکم اس وقت تک حتمی تصور نہیں ہوگا جب تک اس کے خلاف اپیل اور نظر ثانی کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں آتا۔

توہین عدالت کے نئے مجوزہ قانونی مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی جج کے خلاف سکینڈلائیز کرنے کا معاملہ ہوگا تو وہ جج وہ مقدمہ نہیں سن سکتا اور چیف جسٹس بینچ بنائیں گے۔ کسی جج کی عدالتی کارروائی سے ہٹ کر ان کے خلاف اگر کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ پوری عدالت کو سکینڈلائیز کرنا نہیں تصور ہوگا۔

اگر چیف جسٹس کو ’سکینڈ لائز‘ کرنے کا معاملہ ہوگا تو چیف جسٹس کے فرائض دو سب سے سینیئر دستیاب جج نمٹائیں گے۔

انٹرا کورٹ آرڈر یا عبوری حکم کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے ملک میں موجود تمام ججوں پر مشتمل بڑا بینچ سنے گا۔ اگر کسی فریق کی اپیل نصف ججوں نے سنی تو اس کے خلاف اپیل یا نظر ثانی کی درخواست فل کورٹ کرے گا۔

اسی بارے میں