'عبدالستار ایدھی کی حالت اب بہتر'

عبدالستار ایدھی
Image caption عبدالستار ایدھی گجرات کے شہر بانٹوا میں سنہ انیس سو اٹھائیس میں پیدا ہوئے .

پاکستان کے معروف فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی کو طبیعت کی ناسازی کے باعث کراچی میں واقع سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ میں داخل کرادیا گیا ہے جہاں ان کی حالت اب بہتر بتائی جارہی ہے۔

عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد گزشتہ روز غش کھا کر گر گئے تھے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے والد کی طبیعت سنبھل گئی ہے اور ڈاکٹروں کے بقول انہیں ایک یا دو روز میں ہسپتال سے فارغ کردیا جائے گا۔

فیصل ایدھی نے بتایا کہ عبدالستار ایدھی نے تربت میں ہلاک ہونے والے اٹھار افراد کی ہلاکت کا جذباتی اثر لے لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔

عبدالستار ایدھی گجرات کے شہر بانٹوا میں سنہ انیس سو اٹھائیس میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق میمن صنعتکار برادری سے ہے۔

جب وہ انیس برس کے تھے تو ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے سنہ انیس سو سینتالیس میں کراچی ہجرت کی اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے اسی سال اپنی ڈسپنسری قائم کی جہاں غریبوں کو مفت علاج کی سہولت مہیّا کی جانے لگی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک پرانی گاڑی خریدی جسے انہوں نے ایمبولینس میں تبدیل کیا اور شہر میں غریبوں کو مفت علاج فراہم کرنے لگے جبکہ لاوارث لاشوں کو دفنانے کا کام بھی شروع کردیا۔

ان کے امدادی کام کو لوگوں نے سراہا اور انہیں امداد دینا شروع کردیا جس سے انہوں نے اپنے امدادی کاموں کی توسیع کی۔ اسی دوران ان کی ملاقات بلقیس نامی خاتون سے ہوئی جو ان ہی کی ڈسپنسری میں نرس کے طور پر کام کررہی تھیں۔ عبدالستار ایدھی نے ان سے سنہ انیس سو چھیاسٹھ میں شادی کرلی اور دونوں نے فلاحی کام کرنے کا عزم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption کراچی میں لاوارث اور گمشدہ بچوں کے لیے ایدھی ہوم ہے۔

عبدالستار ایدھی نے اپنا پہلا فلاحی مرکز صرف پانچ ہزار روپے سے قائم کیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی۔ سنہ انیس سو تہتر میں جب شہر میں ایک پرانی رہائشی عمارت زمیں بوس ہوئی تو ایدھی ایمبولینسیں اور ان کے رضا کار سب سے پہلے جائے حادثہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک ملک بھر میں ایدھی ایمبولینسیں اور ان کے رضاکار نہ صرف کسی بھی حادثے پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں بلکہ لاوارث لاشوں کو دفنانے کا کام بھی سرانجام دیتے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق عبدالستار ایدھی آج بھی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ میٹھادر کے علاقے میں ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور عمارت کا باقی حصہ انہوں نے اپنی فاؤنڈیشن کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ ان کے کمرے کے ساتھ ہی ایک باورچی خانہ ہے جو ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے استعمال میں ہے جہاں وہ روزمرہ کا کھانا پکاتی ہیں۔

صرف کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے آٹھ ہسپتال موجود ہیں جن میں ایک چار بستروں کا کینسر ہسپتال بھی ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

ان کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ’اپنا گھر‘ کے نام سے مختلف مقامات پر پندرہ عمارتیں موجود ہیں جہاں نفسیاتی مریض، لاوارث افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں، اور ضعیف العمر افراد رہائش پذیر ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیش نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی شاخیں قائم کیں ہیں جن میں بنگلہ دیش، جاپان، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے اپنی خدمات مصر اور ایران میں آنے والے زلزلوں کے متاثرین کو بھی فراہم کیں تھیں۔

عبدالستار ایدھی کی فلاحی خدمات کو ملکی اور عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور مختلف ممالک نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جبکہ پاکستان کی حکومت نے انہیں نشانِ امتیاز دیا۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی سوانح عمری بھی تحریر کی ہے جو کتابی شکل میں موجود ہے۔

اسی بارے میں