’آئی ایس آئی، اختیارات میں ترامیم کی تجویز ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینیٹ کے قانونی شعبے کی افسر نے اس بل کی تفصیلات نہیں بتائیں

پاکستانی ایوان بالا سینیٹ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے اختیارات اور فرائض منصبی میں ترامیم تجویز کرنے والا مسودہ قانون انہیں موصول ہو گیا ہے جسے باری آنے پر ایوان کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

سینیٹ آف پاکستان کے شعبہ قانون کی افسر ربیعہ انور نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ پیپلز پارٹی کے سینٹیر فرحت اللہ بابر کی جانب سے آئی ایس آئی کے فرائض منصبی، اختیارات اور قواعد و ضوابط میں ترمیم کا بل سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مسودہ قانون نجی رکن کی حیثیت سے جمع کروایا گیا ہے لہذٰا اسے اپنی باری آنے پر ہی ایوان بالا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نجی ارکان کی جانب سے جمع کروائے جانے والے قانونی مسودے قرعہ اندازی کے بعد اپنی باری پر ایوان میں پیش کیے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سینیٹ کے قانونی شعبے کی افسر نے اس بل کی تفصیلات نہیں بتائیں اور سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی اس بل کے مندرجات کی تفصیل بتانے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔

انگریزی اخبار ڈان کے مطابق، جس نے دعویٰ ہے کیا کہ اس کے پاس اس مسودے کی نقل موجود ہے، اس ترمیمی بل میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ آئی ایس آئی کو دہشت گردی میں ملوث مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دیا جائے جس کی مدت ایک ماہ ہو اور اسے زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک توسیع دی جا سکے۔

اس مبینہ مسودے کے مطابق پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی کو آئی ایس آئی کے اخراجات، انتظامی امور اور پالیسی سازی کے معاملات کی جانچ پڑتال کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ ملک کا یہ اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ادارہ وزیراعظم کے ماتحت ہو اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اس کے اہلکاروں کو پچیس سال قید تک سزا دینے کا قانون بنایا جائے۔

اس ایجنسی کے اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تفتیش کے لیے محتسب کا ادارہ بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اسی بارے میں