’ایف سی کے خلاف شواہد نظرانداز نہیں کر سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فرنٹیئرکور ہماری اپنی فورس ہے۔ خدا کے لیے اس کے امیج کو خراب ہونے سے بچایا جائے: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بےچینی ختم کرنے کے لیے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہوگا۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے میں فرنٹیئر کور کے خلاف بہت سے شواہد آئے ہیں اور جب کسی کے خلاف شواہد آئیں تو آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔

ادھر سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد منگل کی رات کوئٹہ میں ایک اور لاپتہ شخص منظرعام پر آ گیا جس کے بعد ایسے افراد کی تعداد اکیس ہو گئی ہے جبکہ لاپتہ افراد میں سے سات کی لاشیں بھی مل چکی ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منگل کو بھی کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جاری رکھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے فرنٹیئرکور اور صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ تمام لاپتہ افراد کو پندرہ دن کے اندر منظرِ عام پر لایاجائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فرنٹیئرکور ہماری اپنی فورس ہے اور ’خدا کے لیے اس کے امیج کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔ فرنٹیئر کورکے خلاف بہت سے شواہد آئے ہیں جب کسی کے خلاف شواہد آئیں تو ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے‘۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جون کے مہینے میں بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات میں 146 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 101 صرف کوئٹہ میں مارے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل وزارت دفاع کی جانب سے کمانڈر شہباز نے کہا کہ بلوچستان میں فراری کیمپ ہیں وہاں کارروائی نہیں ہوسکتی ۔

اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد نے عدالت کو بتایا کہ ’صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے ہماری جو سویلین فورس ہے اس کی صلاحیت اتنی نہیں ہے جتنی کہ ہونی چاہیے بلکہ عسکریت پسند سویلین فورسز کے مقابلے میں زیادہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فراری کیمپس تو ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں:چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ جو شرپسند ہیں ان کی تعداد کتنی ہے دس ہزار یا20ہزار ۔جہاں اس طرح کا مسئلہ ہو وہاں آئین کے تحت وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی مدد کرے۔

فرنٹیئر کور کا کردار اہم ہے اس کے لوگ اپنی جانیں دے رہے ہیں ایف سی میں اچھے لوگ ہیں چندبرے ہوں گے ان فورسز کو استعمال میں لایا جائے ۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ پنجاب سے اس لیے ناراض ہیں کیوں تعلیم کی شرح پنجاب میں سب سے اچھی ہے جبکہ یہاں سب سے بد تر ہے ۔

پنجاب میں لوگوں کو روزگارکے اچھے مواقع دستیاب ہیں جبکہ یہاں وہ مواقع دستیاب نہیں ہیں اسی طرح پنجاب میں لوگوں کو اچھی خوراک میسر ہے جبکہ یہاں غربت کے باعث اکثرلوگوں کے پاس خوراک نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیر کے روز صوبائی حکومت کا مختلف ایجنسیوں کے علاقائی سربراہان کے ساتھ جو اجلاس ہوا ہے اس میں سب نے یقین دہائی کرائی کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں مکمل تعاون کریں گے۔

لاپتہ شخص بازیاب

منگل اور بدھ کی درمیانی شب گذشتہ سال اگست میں سریاب سے لاپتہ ہونے والا پنتالیس سالہ امام مسجد مفتی عبدالوہاب منظرِ عام پر آ گئے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس اطلاع کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مفتی عبدالوہا ب کو سریاب کے علاقے سے دن دھاڑے پولیس اور فرنٹیئرکور کے اہلکاروں نے اٹھایا تھا جس کے بعد ان کی والدہ نے نیو سریاب تھانہ میں نہ صرف ایف آئی آر درج کروائی تھی بلکہ سپریم کورٹ سے بھی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے درخواست کی تھی۔

دوسری جانب لاپتہ افراد کو منظرعام پر لانے کے لیے ہونے والے اقدامات پر بلوچستان کے زیادہ سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی تائید کی ہے۔

اس بارے میں پیپلزپارٹی کے سابق سنیٹرحاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ریاست کے تمام اداروں سے بلوچستان کے عوام مایوس ہوچکے ہیں اب صرف سپریم کورٹ ہی ایسا ادارہ رہ گیا ہے جس سے بلوچستان کے عوام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔

اسی بارے میں