احتجاج کے باوجود توہین عدالت کا بل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزب اختلاف کی جانب سے توہین عدالت کے بل کی مخالفت کی گئی

پاکستان کی حکومت نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ سے اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود اکثریت رائے سے توہین عدالت کا نیا قانون منظور کروا لیا ہے۔

قومی اسمبلی پہلے ہی اس قانون کی منظوری دے چکی ہے اور اب جیسے ہی صدرِ پاکستان اس پر دستخط کریں گے تو یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس سے پہلے کے توہین عدالت کے تمام قوانین منسوخ ہوجائیں گے۔

’جج کے خلاف سچا بیان توہین عدالت نہیں‘

’نئے قانون کے خلاف درخواستیں تیار ہو چکی ہوں گی‘

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق یہ بل نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ کی جانب سے صدر مملکت اور دیگر کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نہ لکھنے کے معاملے میں طلب کیے جانے سے بارہ گھنٹے قبل منظور ہوا اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد نئے وزیراعظم کو بچانا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے معاملے پر سید یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا ہے اور اب اس معاملے پر نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے بارہ جولائی کو جواب طلب کیا ہے۔

عدالت کی سماعت سے محض ایک روز قبل گیارہ جولائی کو کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ راجہ پرویز اشرف عدالت میں بارہ جولائی کو جواب داخل نہیں کریں گے بلکہ بعد میں وفاقی وزیر قانون سے بریفنگ کے بعد کابینہ کی منظوری کے ساتھ وہ اپنا جواب داخل کریں گے۔

حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تو توہین عدالت کے بل کی کھل کر حمایت کی ہے لیکن اپوزیشن کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد عدلیہ کے اختیارات کم کرنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) ، جمیعت علما اسلام (ف) اور نیشنل پارٹی نے توہین عدالت کے بل کی سخت مخالفت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عجلت میں یہ بل منظور نہ کرائے، کچھ روز کے لیے مؤخر کرے۔

اپوزیشن کے نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے اور اگر عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تو اس سے پارلیمان بےتوقیر ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اسحٰق ڈار، سید ظفر علی شاہ اور دیگر نے اس بل کی سخت مخالفت کی اور احتجاج کیا۔

جمیعت علماء اسلام (ف) کے محمد خان شیرانی اور مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی اس کی مخالفت کی اور کہا کہ عجلت میں قانون کی منظوری کے بجائے سب کو اعتماد میں لیا جائے۔

اپوزیشن کے علاوہ خود حکمران پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اعتزاز احسن نے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ عجلت میں منظور کردہ قانون حکومت کے لیے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں صدر اور وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہے لیکن کل صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے اور جو جماعت آج اقتدار میں ہے وہ کل اپوزیشن میں ہوگی۔

واضح رہے کہ کابینہ نے توہین عدالت کے قانون کے جس مسودے کی منظوری دی تھی اس میں واضح لکھا تھا کہ آئین کی شق دو سو اڑتالیس کے تحت عوامی عہدے رکھنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن منظور کردہ قانون کے تحت صرف یہ کہا گیا ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں