ٹرالرز مالکان نے نئی پالیسی مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو کے لیے سامان لے جانے والے ٹرالرز مالکان نے پاکستانی حکومت کی نئی پالیسی مسترد کی ہے

خیبرپختونخوا میں نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرالرز کے مالکان نے حکومت کی نئی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت ٹرالرز کراچی سے براستہ پشاور براہ راست سامان افغانستان سامان لے جا سکیں گے۔ پرانی پالیسی کے تحت ٹرالرز کرچی سے نیٹو کا سامان لے کر پشاور کے قریب اترتے تھے اور اس سامان کو دوسرے ٹرالرز افغانستان لے کر جاتے تھے۔

ٹرالرز مالکان نے کہا ہے کہ نئی پالیسی سے صوبہ پختونخوا میں بے روزگاری بڑھے گی، کاروبار متاثر ہوگا اور قومی خزانے کو نقصان ہوگا۔

خیبر ٹرالرز ایسوسی ایشن کے مالکان کا کہنا ہے کہ کاغذی کارروائی کی وجہ سے افغانستان کے لیے اب تک کراچی سے ٹرالر روانہ ہی نہیں ہوئے ہیں۔

پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر ٹرالرز ایسوسی ایشن کے صدر جہانزیب خان نے کہا کہ حکومت نے نیٹو سامان کی افغانستان تک ترسیل کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت کراچی سے جو ٹرالر روانہ ہوگا وہی ٹرالر افغانستان تک سامان پہنچائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی سے روانہ ہونے والے نیشنل لاجسٹک سیل این ایل سی کے ٹرالرز سامان پشاور کے قریب امان گڑھ میں اتار لیتے اور دوسرے نجی ٹرالرز یہ سامان پھر افغانستان پہنچاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ٹرالر اور کنٹینر کے ڈرائیور خطرات کی وجہ سے خیبر ایجنسی یا افغانستان تک سامان نہیں پہنچاتے تھے۔

جہانزیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پرانے طریقہ کار میں خیبر پختونخوا کے ہزاروں مزدور برسر روزگار تھے اور یہاں کاروبار بھی چل رہا تھا لیکن اب چونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جونیٹو افواج کا سامان کراچی سے براہ راست افغانستان پہنچائیں گے جس کی وجہ سےخیبر پختونخوا میں لوگوں کا روزگار اور کاروبار بری طرح متاثر ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت اب ایک ٹرالر ایک ہی وقت میں سرحد عبور کرے گا اور جو ٹرالر پہلے پہنچے گا اسے پیچھے دیگر آنے والے ٹرالروں کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگر ایک ٹرالر خراب ہو جائے تو باقی ٹرالر بھی آگے نہیں جا سکتے جس سے وقت کا زیاں اور ٹرالر کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔