سویرا کی بہادر فریدہ

فریدہ آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فریدہ اپنے علاقے میں علم کی روشنی لانا چاہتی تھیں

نو عمری میں چند ساتھیوں سمیت ایک پسماندہ قبائلی علاقے میں خواتین کو در پیش مسائل کے حل کے لیے عملی قدم اٹھایا اور عین جوانی میں قتل کر دی گئیں۔ پانچ وقت نماز کی پابند اور روزانہ قرآن کی تلاوت کرنے والی فریدہ آفریدی کو خواتین کو آگہی دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم سویرا کی مینجر ایڈمن فریدہ آفریدی کو گزشتہ ہفتے اس وقت نامعلوم افراد نے قتل کر دیا جب وہ پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد سے اپنے کام کے سلسلے میں خیبر ایجنسی میں فیلڈ میں جا رہی تھیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں آج سے آٹھ سال پہلے یعنی سن دو ہزار چار میں ایف ایس سی کی چند طالبات نے خواتین کو درپیش مسائل کے حل اور ان علاقوں میں خواتین کو آگہی دینے کے لیے عملی قدم اٹھایا اور ایک غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم میں نوجوان شامل تھے اور مختلف منصوبوں پر انھوں نے کام شروع کر دیا۔ اس تنظیم کا نام سویرا اس لیے رکھا گیا کہ وہ اپنے علاقے میں جہالت کے اندھیرے مٹا کر علم کی روشنی لائی گی۔

سویرا کی چیف ایگزیکٹو نور ضیاء آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سب اکھٹے تھے ، فریدہ کو تو جیسےاپنے کام سے جنون تھا، بے خوف ہو کر وہ کسی بھی علاقے میں چلی جاتی۔ فریدہ آفریدی کو قتل سے پہلے دھمکیاں ملی تھیں لیکن انھوں نے اس کی پرواہ نہیں کی اور یہی کہا کہ وہ اچھا کام کر رہی ہیں اور کوئی انھیں کچھ نہیں کہے گا۔

نور ضیاء کے مطابق فریدہ کی چار بہنیں اور چار بھائی ہیں، والد ایک سرکاری محکمے میں ڈرائیور ہیں، ایک بھائی نوکری کرتے ہیں، دو بہنیں بیاہی ہوئی ہیں اور باقی سب بے روزگار ہیں۔ فریدہ اپنے گھر اور خاندان کی کفالت کے لیے پریشان رہتی تھی اس لیے انھوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی۔

نور ضیا نے بتایا کہ فریدہ کہتی تھیں کہ جب کوئی ایسا شخص ملے گا جو ان کے ساتھ مخلص ہو تو وہ شادی کر لیں گی۔ فریدہ آفریدی کی عمر چھبیس سال تھی اور انھوں نے حال ہی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے جینڈر سٹڈیز میں ماسٹر کیا تھا۔ ابھی تک ان کی ڈگری گھر پہنچی بھی نہیں تھی کہ فریدہ اس جہاں سے چلی گئیں۔

فریدہ کی ساتھیوں نے بتایا کہ انھیں شاعری کا بہت شوق تھا۔ خود لکھتی تھیں لیکن کبھی کچھ شائع نہیں کرایا، بس اپنے ہی من میں رکھا یا گھر میں پڑے کاغذوں میں ہی کچھ موجود ہوگا۔

لال جان آفریدی بھی سویرا تنظیم میں کام کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فریدہ ان کی بہن کی طرح تھیں ۔ انھوں نے بتایا کہ فریدہ آفریدی اپنے ساتھیوں سے بہت مخلص تھیں اور مذہبی رجحان رکھتی تھیں۔ پانچ وقت نماز پابندی سے ادا کرتی تھیں اور بلا ناغہ دو گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔

نور ضیاء نے بتایا کہ فریدہ اکثر کہتی تھی کہ انہیں افسانے لکھنے کا بہت شوق ہے اور ان کی کہانیوں میں بھی عورت کی پسماندگی اور ان کو در پیش مسائل کا ہی ذکر ہوتا۔

نور ضیا نے بتایا کہ فریدہ کی ہلاکت کے بعد اب انھیں بھی دھمکیاں مل رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کام سے بعض آجائیں وگرنہ ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔

پاکستان کے قبائلی اور دیگر علاقوں میں غیر سرکاری تنظیموں یا این جی اوز کے حوالے سے مختلف تاثر پائے جاتے ہیں جیسے کوہستان کے علاقے میں کچھ روز پہلے ایک مسجد میں کہا گیا کہ این جی اوز کی سرگرمیاں مشکوک ہیں اور ان پر نظر رکھیں۔

پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کی تعداد میں اب تک مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ این جی او قائم کرنے کا رجحان سن دو ہزار کے بعد بڑھ گیا تھا۔ نور ضیا کہتی ہیں کہ ان کے تمام ساتھی اپنے علاقے سے انتہائی مخلص ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں ترقی ہو، لوگوں کو ان کے حقوق کا علم ہو اور وہ اپنے حقوق حاصل کر سکیں، سویرا کے قیام کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہی تھا۔

اسی بارے میں