ملک ریاض پر فردِ جرم سولہ جولائی کو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک ریاص کے وکیل نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ توہین عدالت آرڈیننس میں ترمیم اُن کے موکل کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ، بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں سولہ جولائی کو فردِ جرم عائد کرئے گی۔

جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ملک ریاض توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو استغاثہ کی ذمہ داریاں سونپی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اٹارنی جنرل استغاثہ کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

یاد رہے کہ گُزشتہ ماہ ملک ریاض نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان نے پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے موکل بیرونِ ملک سے اپنا علاج آدھورا چھوڑ کر آئے ہیں لہذا اُنہیں علاج مکمل کروانے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم ملک ریاض کی بیماری کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا گیا جس پر اُن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ موکل کی بیماری کا تفصیل سے ذکر کرنے پر کاروباری حلقوں میں ’کھلبلی‘ مچ جائے گی تاہم اس ضمن میں عدالت نے ملک ریاض کو علاج کے لیے بیرون ممالک جانے کی اجازت نہیں دی۔

ڈاکٹر باسط کا کہنا تھا کہ ملک میں توہین عدالت سے متعلق ایک نیا قانون آگیا ہے۔ اُنہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ توہین عدالت آرڈیننس میں ترمیم اُن کے موکل کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک طریقہ کار کا تعلق ہے تو ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اب نئے قانون کا اطلاق ہوگا تاہم ارتکاب جُرم اور سزا سے متعلق فیصلہ پرانے قانون کے تحت ہی کیا جائے گا۔

ڈاکٹر باسط نے توہین عدالت کے نئے قانون کو حکومت کی ایک بےسود کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسا بھی ہے لیکن اب قانون تو موجود ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے نئے توہین عدالت کے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس دن جُرم سرزد ہو اُسی دن جو ملک میں قانون رائج ہوتا ہے اُسی کا اطلاق ہوتا ہے اور اس کے بعد نئے قانون کا کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔

دوسری جانب نیب یعنی قومی احتساب بیورو نے چیف جسٹس افتخِار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے لین دین کے معاملے میں ملک ریاض کو تحقیقات کے سلسلے میں سولہ جولائی کو طلب کیا ہے۔

نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے بی بی سی کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی فانینشل کرائم کی سربراہی میں قائم تفتیشی ٹیم نے ملک ریاض سولہ جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے طلب کیا ہے جبکہ اس کے بعد ڈاکٹر ارسلان کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں