کیا پنجابی طالبان پھر متحرک ہو رہے ہیں؟

Image caption کالعدم تنظیموں کے کئی کارکن ٹوٹ کر القاعدہ اور تحریک طالبان کے ساتھ شامل ہوئے

لاہور میں زیر تربیت جیل پولیس اہلکاروں پر حملے نے پنجاب بھر میں موجود تمام سرکاری سکیورٹی اہلکاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر شدت پسندوں کے اس نئے نیٹ ورک تک پہنچ کر اسے توڑا نہ گیا تو پنجاب میں مزید حملوں کا خدشہ موجود ہے۔

گزشتہ ہفتے پنجاب کے شہر گجرات میں دریا کنارے لگے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا جس میں آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔لاہور کے تازہ حملے میں بھی نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ان دونوں حملوں میں کئی باتیں مشترک ہیں، دونوں واقعات میں خود کش حملے کا روایتی طریقہ نہیں اپنایا گیا بلکہ مسلح افراد نے اندر داخل ہو کر تاک تاک کر نشانے لگائے۔ دونوں واقعات میں حملہ آور ایک کار اور موٹرسائیکلوں پر آئے تھے۔ دونوں حملوں کے اوقات ایک جیسے ہیں اور دونوں واقعات میں ہلاک ہونے والے مقامی نہیں تھے بلکہ مختلف علاقوں سے اپنے فرائض نبھانے کے لیے وہاں موجود تھے۔

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر اسلم ترین کا یہ بیان بھی قابل غور ہے کہ ’لاہور کی پولیس کو اس ہاسٹل کے قیام کا علم نہیں تھا۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف پونے دو لاکھ اہلکاروں پر مشتمل پنجاب پولیس کو تو اس ہاسٹل کا علم تک نہیں تھا لیکن حملہ آوروں کو نہ صرف مکمل معلومات تھیں بلکہ انہیں یہ تک معلوم تھا کہ اس میں خیبر پختونخواہ سے آنے والے پولیس اہلکار قیام پذیر ہیں۔

شدت پسندوں کو حاصل اتنی خاص معلومات کا مظاہرہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے جب جی ایچ کیو یا مہران بیس کو نشانہ بنایا گیا یا پھر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی بسوں یا دفاتر پر حملے کیے گئے۔

یہ سوالات تو پرانے ہیں اور ان کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے سلیم شہزاد جیسے صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اس کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ شدت پسندوں کے ذرائع یقیناً سکیورٹی اداروں کے اندر ہی موجود ہو سکتے ہیں۔

بات اس وقت یہ زیر بحث ہے کہ کیا پنجابی طالبان ایک بار پھر متحرک ہو چکے ہیں؟

دو تین برس پہلے جب ایک کے بعد دوسرا حملہ ہو رہا تھا تو عمر نام کا ایک نوجوان بطور پنجابی طالبان کے ترجمان فون پر میڈیا سے رابطہ کرتے تھے۔ کئی بار مجھ سے بھی ان کا رابطہ ہوا جس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔

معروف تجزیہ نگار اور صحافی سلیم صافی کےمطابق عمر کو ان کے ساتھی عثمان پنجابی کے نام سے جانتے تھے اور شاید وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے بعد کسی نئے ترجمان کا نام سامنے نہیں آیا، نہ ہی پنجاب میں میڈیا سے کسی نے رابطہ استوار کرنے کی کوشش کی۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ پنجابی طالبان کسی ایک گروہ کا نام نہیں بلکہ ان تمام افراد کو پنجابی طالبان کہا جاتا ہے جو پختون نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجابی طالبان میں کچھ نئے رکن بننے والے نوجوان بھی ہیں جبکہ پہلے سے موجود بعض کالعدم تنظیموں کے کارکن اپنی تنظیمیں چھوڑ کر تحریک طالبان کے ساتھ شامل ہوئے۔

ان کہنا ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی، جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ، حرکۃ المجاہدین اور حرکۃ اللانصار جیسی تنظیموں کے کئی کارکن ٹوٹ کر القاعدہ اور تحریک طالبان کے ساتھ شامل ہوئے۔

مقامی اخبار کے معروف کالم نویس عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ ان تنظیموں کے لوگ نائن الیون سے پہلے اور بعد میں بھی مختلف قسم کی پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ مثال کے طور لشکر جھنگوی کا نشانہ شیعہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دو واقعات سے پہلے تشدد کے جتنے واقعات ہو رہے تھے وہ فرقہ وارانہ یا قوم پرستی کی بنیاد پر ہوئے لیکن حالیہ دو واقعات ان سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ حالیہ حملے نیٹو سپلائی کا ردِعمل بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ جب تک نیٹو سپلائی بند رہی حملے بھی بند رہے اور اس دوران شدت پسند تنظیموں نے خاموشی سے اپنے کارکنوں کو پھیلا دیا ہوگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ شدت پسند پنجاب کے معاشرے میں رہ رہے ہوں گے اور یہاں کے عام لوگوں کو حتیٰ کہ ان کے گھر والوں تک کو اندازہ نہیں ہوگا کہ وہ کس مار پر ہیں۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ پنجاب میں طالبان مختلف گروہوں پر مشتمل ہوں اور ان کے آپس میں روابط تو نہ ہو لیکن سینٹرل کمانڈ سے انہیں مختصر احکامات ملتے ہوں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گروپ کوئی سا بھی ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ دونوں حملے بہت منظم طور پر کیے گئے ہیں اور مزید حملوں کا خطرہ بدستور پنجاب میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کے سر پر تلوار کی مانند لٹکا ہوا ہے۔

اسی بارے میں