’سوشل میڈیا روایتی میڈیا کا متبادل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سنیچر کو دو روزہ پاک بھارت سوشل میڈیا میلہ اس خیال کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ سوشل میڈیا کو اپنا مقام بنانے میں ابھی وقت لگے گا اور اسے روایتی میڈیا کا متبادل سمجھنا درست نہیں ہے۔

سنیچر کو میلے کے شرکاء کو جس سیشن کا بے صبری سے انتظار تھا اسے شاید منتظمین نے دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے سب سے آخر میں رکھا تھا۔

اس گفتگو کا موضوع کہ کیا ٹوئٹر نیا نیوز روم ہے نہ صرف مجھ جیسے صحافیوں کے لیے باعثِ دلچسپی تھا بلکہ مرکزی ہال کو کچھا کچھ بھرا دیکھ کر یہ بات با آسانی کہی جا سکتی تھی کہ میلے میں شریک نوجوان سٹیزن جرنلسٹ یا عوامی صحافی بننا جاننا چاہتے ہیں۔ آیا واقعی سوشل میڈیا روایتی میڈیا کی جگہ لے رہا ہے۔

تمام شرکائے گفتگو نے جہاں ٹوئٹر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے خیالات یا اطلاعات بانٹنے کا ابتدائی ذریعہ تسلیم کیا وہیں وہ اسے روایتی میڈیا کے متبادل تو کیا اس کا ہم پلہ بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔

سینیئر صحافی اور مصنف محمد حنیف اور بھارتی نیوز ویب سائیٹ تہلکہ ڈاٹ کام سے تعلق رکھنے والی کرونا جان اس بات پر متفق نظر آئے کہ ٹوئٹر کا اطلاعات کی جلد فراہمی کا ذریعہ ہونا اپنی جگہ لیکن اسے خبر كی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ماننا درست نہیں ہے۔

محمد حنیف نے بی بی سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جلدی خبر دینے سے صحیح خبر دینا زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہ آج بھی اگر آپ مصدقہ خبر کی تلاش میں ہیں تو آپ کو ایسے ذرائع کے پاس جانا چاہیے جو اپنی خبر کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔

کرونا جان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر صرف ایک ذریعہ ہے جس کے صحیح یا غلط استعمال کا دارومدار اس فرد پر ہے جو اسے استعمال کر رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روایتی میڈیا میں خبر کی تیاری اور اسے نشر کرنے کے بارے میں جن صحافتی اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہ ٹوئٹر پر دکھائی نہیں دیتا اور یہی وجہ ہے کہ بچوں سے متعلق یا دیگر حساس موضوعات پر خبر سامنے لانے کے لیے روایتی میڈیا ہی اب تک صحیح میڈیم ہے۔

دورانِ گفتگو پینل میں شریک لاہور سے تعلق رکھنے والی صحافی محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر پر پاکستان میں ایسے موضوعات پر بھی بات کی جا سکتی ہے جن پر روایتی میڈیا بات کرنے کو یا تو تیار نہیں یا مختلف وجوہات کی وجہ سے اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔

بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور احمدی اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی کوریج کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں معاملات میں پاکستانی سوشل میڈیا کی کارکردگی روایتی میڈیا سے کہیں بہتر رہی ہے۔

عوامی صحافی نوربرٹ المیڈا کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر اطلاعات کی جلد فراہمی کی وجہ سے ایک کارآمد ذریعہ ہے لیکن اس پر غیر مصدقہ اطلاعات کی بھرمار اسے صحافیوں کے لیے خبر کے حصول کا ایک مشکل ذریعہ بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر پر صرف حقائق ہی ٹویٹ کیے جانے چاہیئیں اور ایسا ہوگا تب ہی وہ قابلِ اعتبار بن سکتا ہے۔ نوربرٹ نے ٹویٹس کی مدد سے علاقائی معلومات کی فراہمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جہاں ملک کا روایتی میڈیا کسی ایک شہر کے حالات یا ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں خبر نہیں دیتا وہاں ٹوئٹر سے ہی کام لیا جاتا ہے۔

اس تقریب کے دوران ماہرین کی بات چیت اور شرکائے محفل کے سوال و جواب کے بعد ایک بات جو واضح طور پر ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جب تک سوشل میڈیا پر خواہش کو خبر کی شکل دینے کا رجحان موجود رہے گا اسے خبر کے حصول کے ایک قابلِ بھروسہ ذریعے کے طور پر تسلیم کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں