کراچی:’سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عوامی تحریک کی مہاجر صوبے کے خلاف نکالی گئی ریلی پر فائرنگ سے دس افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں قتل و غارت گری روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو عوامی تحریک اور سٹی الائنس کے تحت ہونے والے جلسے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو لیاری کے گبول پارک میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس جلسے کو’سندھ دوست‘ کا نام دیا گیا تھا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی میں بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے جن میں سندھی اور بلوچی زبان بولنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ حکمراں پپلزپارٹی پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کراچی میں قتل عام رکوانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

ان کے بقول ان کے اختلافات ایم کیو ایم سے ہیں، اردو بولنے والوں سے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک ایم کیو ایم کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہے اور یہ ان کا جمہوری حق ہے۔

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق ایاز پلیجو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی تحریک سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی اور انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ اس قسم کی سازشیں کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وہ سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے جلسے کو روکنے کے لیے کئی ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جبکہ دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ بھی کیا گیا لیکن سندھی اور بلوچ افراد ڈرنے والے نہیں۔

انہوں دعوٰی کیا کہ بینظیر بھٹو پر جب دھماکہ کیا گیا تو رحمان بلوچ وہاں سے بھاگے نہیں لیکن رحمان بلوچ کو رحمان ڈکیٹ کہہ کر قتل کر دیا گیا جبکہ رحمان ملک جو بینظیر بھٹو کو چھوڑ کر غائب ہوگئے تھے انہیں وزیر بنا دیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے۔

جلسے کے منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ جلسے میں صوبے کے دیگر علاقوں سے شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کراچی آنے والی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔

لیاری سے گورنر ہاؤس اور وزیراعلٰی ہاؤس جانے والے راستوں کو بھی بند کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا تھا کیونکہ پولیس کو خطرہ تھا کہ لیاری سے عوامی تحریک کی ریلی نکالی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بائیس مئی کو لیاری سے عوامی تحریک کی مہاجر صوبے کے خلاف نکالی گئی محبتِ سندھ ریلی پر فائرنگ اور اس کے بعد پیش آنے والے تشدد کے واقعات کے نتیجے میں کم ازکم دس افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

زخمی ہونے والے افراد میں ایک نجی ٹی وی چینل کے دو صحافی بھی شامل تھے۔

عوامی تحریک کی اس ریلی کی حمایت جئے سندھ قومی محاذ اور پیپلزامن کمیٹی کے علاوہ مسلم لیگ نواز نے بھی کی تھی۔

اسی بارے میں