پاکستان میں تین روزہ پولیو مہم کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں آج پولیو کے موذی مرض کے خاتمے کے لیے تین روزہ مہم شروع ہو رہی ہے جس کے دوران حکام کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے تین کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی دوا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

طبی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان اور دوسرے شدت پسند گروہوں کی مخالفت کی وجہ سے وہاں دو لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکیں گے۔

سرکاری حکام کے مطابق حکومت پاکستان اور عالمی اداروں ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے نمائندوں نے اس سلسلے میں قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمان اور قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کا تعاون حاصل کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فاٹا کے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز فواد خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سازگار حالات نہ ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار بچوں اور جنوبی وزیرستان میں اسی ہزار بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا موذی مرض باقی رہ گیا ہے۔ پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے مزید بائیس کیسز سامنے آچکے ہیں۔

دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم عالمی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے سال پاکستان دنیا میں پولیو سے متاثرہ ملکوں میں سرفہرست رہا جہاں پولیو کے مزید ایک سو اٹھانوے کیسز سامنے آئے اور اس کی وجہ قطرے پلانے کی مہم میں پیش آنے والی مشکلات اور رکاوٹیں تھیں۔

عالمی اداروں کے مطابق اس سال پاکستان میں اب تک پولیو کا شکار ہونے والے بائیس بچوں میں سے نو کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پولیو کا تازہ ترین کیس بائیس مئی کو فاٹا میں ہی سامنے آیا تھا۔

باڑہ میں حکومت پاکستان تین برسوں میں پہلی بار حال ہی میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم چلانے میں کامیاب ہوسکی تھی جس میں پانچ سے چھ ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

فاٹا کے بارے میں عالمی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پورے برِاعظم ایشیا میں واحد علاقہ ہے جہاں پولیو کے وائرس کی بدترین قسم جسے ٹائپ تھری کہا جاتا ہے موجود ہے۔

عالمی اداروں کے مطابق پچھلے برس مغربی چین میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بھی پاکستان ہی بنا تھا۔

اسی بارے میں