رقوم کی تقسیم کے مقدمے میں فریق بنوں گا: رحمان ملک

رحمان ملک
Image caption درخواست گذار کی حیثیت سے فریق بن کر عدالت کی معاونت کروں گا۔

پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے سیاست دانوں کو رقوم تقسیم کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے روبرو زیر سماعت سابق ایئر مارشل اصغر خان کے مقدمے میں فریق بننے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ وہ اصغرخان کیس میں ایک درخواست گذار کی حیثیت سے فریق بن کر عدالت کی معاونت کے ساتھ ساتھ تمام چہروں کو بے نقاب کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما اور مشیر داخلہ رحمان ملک نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب سپریم کورٹ اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے تاہم رحمان ملک نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس مقدمہ میں فریق بننے کے لیے کب درخواست دیں گے۔

رحمان ملک نے لاپتہ افراد کے مقدمہ میں بھی فریق بننے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس مقدمہ میں مشیرداخلہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام شہری ہونے کے ناطے درخواست دائر کریں گے اور مقدمہ میں فریق بنیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور کے احتساب ادارہ یعنی احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے جو اس بات کا جائزہ لے کہ کس کس نے زیادتی کی اور ان میں کون سے لوگ شامل تھے۔

انہوں نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر ایسا کوئی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کمشین کو ثبوت فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

رحمان ملک نے مسلم لیگ نون پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ مسلم لیگ نون اب پیٹشن لیگ بن چکی ہے اور بقول ان کے پہلے رات کے آمروں سے مل کر حکومتوں کو ختم کرایا کرتے تھے لیکن اب درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پٹیشن مافیا نے درخواست پر درخواست دائر کرکے پیپلز پارٹی کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ جو وقت عوام کی خدمت کے لیے استعمال ہونا چاہئے وہ اس کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز میں جس طرح سیاسی شخصیات کا مذاق اڑایا جاتا ہے وہ مناسب نہیں ہے اور اگر یہ طریقہ تبدیل نہ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے ۔

رحمان ملک نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کا مذاق اڑانے پر انہوں نے نجی ٹی وی چینلز کے مالکان سے بات کی اور بقول ان کے ٹی وی مالکان کو یہ باور کرایا ہے کہ ’اگر وہ خود ان خاکوں میں موجود ہوں اور اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ پروگرام دیکھیں تو ان کو کیسا لگے گا۔‘

وفاقی مشیر داخلہ نے پولیس کے اعلٰی افسران کو خبردار کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تو وہ متعلقہ پولیس افسروں کو او ایس ڈی بنا دیں گے۔

رحمان ملک نے کہا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو قربانی دی ہے اس قربانی کو انیس جولائی کو ضمنی انتخابات والے دن یاد رکھیں۔

اسی بارے میں