لشکر جھنگوی کے چار رکن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس نے پہلے ایک ملزم طیب حسین کو گرفتار کیا اور پھر اس کی نشاندہی پر چاہ پنیاں والا باغ ملتان میں چھاپہ مارا جہاں ملزموں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلے کے بعد گرفتاریاں عمل آئیں۔

پولیس نے پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں پاکستانی فوج کے ایک میجر اور چار جوانوں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث کالعدم تنظیم کے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کی طرف سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں اس واقعہ کی تفصیلات جاری کی گئیں جن کے مطابق یہ ملزمان منڈی بہاوء الدین کے علاقے میں پیر چنبل کی پہاڑیوں میں روپوش تھے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی اور پنجابی طالبان سے ہے۔ ان ملزماں کا تعلق کالعدم تنظیم کے ان عناصر سے بھی ہے جو فوجیوں پر حملے میں بھی ملوث ہیں۔

ملتان کے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عامر ذوالفقار چیمہ نے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے پہلے ایک ملزم طیب حسین کو گرفتار کیا اور پھر اس کی نشاندہی پر چاہ پنیاں والا باغ ملتان میں چھاپہ مارا جہاں ملزموں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا لیکن پولیس کے مطابق صبح روشنی ہونے پر ملزموں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

گرفتار ہونے والے ملزموں میں طیب حسین، شان حسین، آصف حسین اور ان کا سرغنہ محمد محمود شامل ہیں۔

سی سی پی او ملتان عامر ذوالفقار چیمہ نے بتایا کہ ملزموں پر سیتل ماڑی کے علاقے میں شب برات کو دو پریشر ککر بم دھماکوں کا مقدمہ پہلے سے درج ہے جس میں متعدد شہری زخمی ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزم محمد محمود بم بنانے کا ماہر تھا اور اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر یوریا کھاد اور کلونجی کے مکسچر سے ایک پریشر ککر بم بنایا اور ڈیٹونیٹر کے لیے موبائل فون کو بطور ٹائمر استعمال کیا۔

ملزموں نے مٹی اٹھانے کے بہانے یہ پریشرککر ٹرین کا پٹٹری کے نیچے نصب کیا تھا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم دھماکوں اور دیگر تخریب کاریوں کے لیے ایک بڑا منصوبہ تشکیل دے چکے تھے لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کرکے ملتان کے شہریوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔

اسی بارے میں