فاٹا: پولیو مہم شروع کرنے کی کوشش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں پولیو کے زیادہ تر کیس قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں سامنے آئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کی جانب سے پولیو مہم کی مخالفت کے بعد مقامی انتظامیہ کی مہم شروع کرنے کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔

پیر کو پولیو کے خاتمے کی سرکاری مہم کے نگراں ادارے کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ بچے پولیو کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ علماء سے رابطے میں ہے اور بدھ کو اس سلسلے میں ایک جرگہ منعقد ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو علماء اور قبائلی عمائدین پر مُشتمل ایک جرگہ بلایا گیا تھا لیکن میرانشاہ میں کرفیو کی وجہ سے جرگہ نہیں ہو سکا۔

اہلکار کے مطابق جب بھی میرانشاہ سے فوجی قافلہ گزرتا ہے تو پورے علاقے میں کرفیو کا نفاذ ہوتا ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ پولیو مہم کے سلسلے میں آنے والے چند دنوں میں کوئی جرگہ نہیں بلایا گیا ہے۔البتہ جب پہلی دفعہ جب طالبان سربراہ مُلا نذیر کی جانب سے پولیو مُہم کے خلاف پمفلٹ تقسیم کیے گئے تو اس وقت وانا میں علماء اور قبائلی عمائدین پر مُشتمل پولیٹکل انتظامیہ سے ایک جرگہ ہوا تھا لیکن اس کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ علماء کے ایک جرگے نے مُلا نذیر سے ملاقات بھی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ n

انہوں نے کہا کہ وہی علماء جو مُلا نذیر سے ملے تھے وہ ایک دو دنوں میں شمالی وزیرستان کا دورہ کریں گے اور وہاں وہ پولیو مُہم کے سلسلے میں حافظ گل بہادر سے ملیں گے۔اہلکار کے مطابق گل بہادر سے ملاقات کے بعد حالت کا صحیح پتہ چلے گا۔

پولیو مُہم کے جرگے میں شامل ایک عالم الدین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے ان سے رابط کیا تھا لیکن وہ طالبان پر کسی قسم کی دباؤ نہیں ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر طالبان اپنے طور پر راضی ہوگئے تو اس صورت میں جرگہ کامیاب ہو سکتا ہے ورنہ جرگے میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ طالبان کے اوپر کوئی دباؤ ڈال سکے۔

شمالی وزیرستان میں پاکستانی طالبان کے سربراہ حافظ گل بہادر، جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی نذیر اور خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ نے اپنے زیراثر علاقوں میں پولیو کے خاتمے کی مہم پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستانی طالبان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اسی صورت ختم ہو سکتی ہے جب حکومت پاکستان امریکی ڈرون حملے بند کرائے۔ طالبان کا موقف ہے کہ پولیو کی مرض سے لاکھوں میں ایک متاثر ہو سکتا ہے اور ڈرون حملوں سے روزانہ درجنوں قبائل ہلاک ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں