حج کرپشن کیس:سابق تحقیقاتی افسر کی معطلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے حسین اصغر کو نوکری سے برخاست کرنے کو کہا تھا

حکومتِ پاکستان نے گلگت بلتستان کے موجودہ آئی جی اور ماضی میں حج انتظامات میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے افسر حسین اصغر کو معطل کرتے ہوئے ان کی معطلی کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں پیش کر دیا ہے۔

عدالت نے حکومت کو حسین اصغر کو برخاست کرنے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل نے آئی جی گلگت بلتستان کی معطلی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے حسین اصغر کی طرف سے عدالتی حکم کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اُن کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ حسین اصغر وفاق حکومت کا ملازم ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آقا اُسے بُلائے اور ملازم حاضر نہ ہو۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ضرور کسی اعلی شخصیت کی آشیرباد ہوگی جس کی بنا پر حسین اصغر عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کر رہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

بدھ کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران آئی جی گلگت بلتستان عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ اگر جمعرات تک حسین اصغر اپنی نئی ذمہ داریاں نہیں سنھبالتے تو اُنہیں نوکری سے برخاست کر دیا جائے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے حسین اصغر کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو حسین اصغر کو دوبارہ ایف آئی اے میں تعینات کرنے اور حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے کی تفتیش دوبارہ سونپنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ حج انتظامات میں بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے حکم پر حسین اصغر کو جو اُس وقت ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے میں ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل تعینات تھے، سونپی گئی تھی جس کے بعد اس مقدمے کی تفتیش میں کافی پیش رفت ہوئی تھی۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کو بھی اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں طلب کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ہی حکومت نے اُنہیں گلگت بلتستان صوبے کی پولیس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔

حسین اصغر کی ٹرانسفر کے بعد اس مقدمے کی تفتیش میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

اس مقدمے میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت متعلقہ وزارت کے تین افراد گرفتار ہیں اور اس مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دو ڈائریکٹر جنرل تبدیل ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں