نواز لیگ اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی میں اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سات نکاتی معاہدے پر سیاسی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون اور سندھ کی قوم پرست جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے درمیان سات نکاتی انتخابی اتحاد کا اعلان کیا گیا۔

سندھ میں قوم پرست حلقے اکثر شکایت کرتے ہیں کہ صوبۂ پنجاب ان کی محرومیوں کا ذمہ دار ہے۔ اب سائیں جی ایم سید کے پوتے اور قوم پرست جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ اور میاں نواز شریف کے درمیان انتخابی اتحاد کے سات نکاتی معاہدے پر سیاسی حلقوں نے خاصی حیرت ظاہر کی ہے۔

تاہم جلال محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا اتحاد سندھ کے لیے ہی ہے۔

’ہم نے مسلم لیگ نون سے اس سات نکاتی معاہدے کے لیے کہا تھا کہ انتخابی اتحاد تو ہوگا ہی لیکن مستقبل کے لیے صوبوں کو کچھ ضمانتیں آپ ضرور دیں۔ ان میں سندھ کی جغرافیائی حدود کی حفاظت، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا نفاذ، پانی کی تقسیم اور ہر ممکنہ حد تک صوبائی خود مختاری شامل ہیں۔ انہی نکات پر ہم نے ان سے اتحاد کیا اب آئندہ انتخابات بھی ساتھ لڑیں گے۔‘

جلال محمود شاہ نے پنجاب کی سب سے مقبول جماعت سے اپنے اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان نالاں ہے، سندھ میں بے چینی ہے اور شکایات بڑے صوبے یعنی پنجاب سے ہی رہی ہیں۔

’مگر شکایات کا ازالہ بھی بڑے صوبے کی بڑی جماعت ہی کر سکتی ہے۔ ہم نے کسی فوجی قیادت سے بات نہیں پنجاب کی قائدانہ جماعت سے قیادت سے بات کی ہے۔ ایک ایسی جماعت سے جو ملک کی بڑی سیاسی قوت بھی ہے اگر سیاسی ارادے مضبوط ہوں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحت بھی ہو تو سارے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی سندھ کی بڑی جماعت ہے، اس سے انتخابی اتحاد کو سندھ کے قوم پرستوں کا فطری اتحاد سمجھا جاتا جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے امیدیں پوری نہیں کیں۔

’پیپلز پارٹی سینٹرلسٹ پارٹی ہے، مسلم لیگ بھی مگر ہم اسے یہ پروگرام دے رہے ہیں کہ آپ حقیقی وفاقی جماعت بنیں، صوبوں کو زیادہ خود مختاری دیں تاکہ مرکز مضبوط ہو۔ مضبوط مرکز سے وفاق کا تصور نہیں ابھرے گا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلم لیگ نون بھی ایسا ہی کرتی رہی ہے مگر کہا کہ جو لوٹ کھسوٹ ملک میں جاری ہے خراب حکمرانی ہے اس کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے ہم ان سے کیسے اتحاد کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں