اسامہ کا سراغ، پولیو مہم کو دھچکا: ڈبلیو ایچ او

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر پکڑوانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ذرائع ابلاغ کی جانب سے پولیو مہم سے جوڑنے کی وجہ سے پاکستان میں حالیہ پولیو مہم کو سخت دھچکہ پہنچا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں پولیو مہم کے دوران ڈھونڈا گیا اور نہ ہی کبھی ڈاکٹر آفریدی کسی پولیو مہم کا حصہ رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے پولیو مہم کا حوالہ دینا غلط اور بے بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو دھچکہ پہنچا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے مبینہ طور پر ہیپاٹائٹس مہم چلائی گئی تھی جس میں خون کے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اب تک اسامہ بن لادن کی تلاش میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے غیر مصدقہ اور متضاد معلومات سامنے آتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے ہیپاٹائٹس مہم میں اسامہ کا پتہ لگانے کی بات کی ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کے دوران پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کو صرف دو قطرے پلائے جاتے ہیں اور اس دوران خون کا کوئی نمونہ حاصل نہیں کیا جاتا۔

ڈبلیو ایچ او نے پولیو مہم کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں۔

صحت کے عالمی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پولیو مہم کے بارے میں غلط معلومات کا تاثر ختم کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور مولویوں کی کوششیں کافی سود مند ثابت ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا تین ایسے ملک ہیں جہاں پولیو کا مہلک مرض پایا جاتا ہے۔ تینوں ممالک میں سب سے زیادہ پولیو کے کیسز پاکستان میں سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں انسٹھ کیسز سامنے آئے تھے جبکہ رواں برس تئیس کیسز اب تک رپورٹ ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں