’گرفتار کرو ورنہ آئی جی پنجاب معطل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے علاقے خانیوال میں پنچایت کے حکم پر اینٹیں مار کر قتل کی جانے والی مریم بی بی کے واقعہ پر کہا ہے کہ اگر پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی تو پنجاب پولیس کے سربراہ اپنے آپ کو معطل سمجھیں۔

یہ ریمارکس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس واقعے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر دو روز کے اندر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل حبیب الرحمان کا حال بھی وہی ہوگا جو گُزشتہ برس رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بےگناہ شخص سرفراز شاہ کے قتل کے واقعہ میں کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری کا ہوا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر اُنہیں معطل کردیا گیا تھا۔

فیاض لغاری جب ایف آئی اے کے سربراہ تھے تو اُن کے خلاف دوہری شہریت سے متعلق غلط معلومات دینے پر اسلام آباد کے ایک تھانے میں مقدمہ بھی درج ہے جس کے بعد حکومت نے اُنہیں چند روز قبل سندھ پولیس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ مریم بی بی نے کسی دوسرے کے کھیت سے گھاس کاٹی تھی اور اس معاملے کے حل کے لیے پنچایت بھی طلب کی گئی تھی۔ اس پنچایت کے حکم پر خاتون کو اینٹیں مار کر قتل کردیا گیا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یہ پنچائیت اس معاملے کے حل کے لیے طلب کی گئی تھی۔ ان کے بقول پنچائیت نے خاتون کو سنگسار کرنے سے متعلق ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ خانیوال کے ضلعی پولیس آفیسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں اس پنچائیت کا ذکر نہیں تھا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کی مشینری حرکت میں نہیں آئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر اس واقعہ کو نظر انداز کیا گیا۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے خدا ترس ہیں لیکن ابھی تک اُنہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تصاویر بنوانے کے لیے تو تمام لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں لیکن کام کوئی نہیں کرتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر صوبے کے وزیر اعلیٰ کو اس کا علم نہیں ہے تو پھر دیگر جرائم کے بارے میں اُنہیں کیا علم ہوگا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے دو دن کے اندر ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ایسے انسانیت سوز واقعات ہوتے رہیں گے تو پاکستان کا تشخص دنیا میں کیا رہ جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانچ بچوں کی ماں کو قتل کے علاوہ اُس کے خاوند کو بھی اغوا کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سنگساری کے اس واقعہ کو چھپانے کے لیے ایک عینی شاہد سرفراز کو بھی عائب کردیا گیا۔

سماعت کے دوران مقتولہ مریم کے ایک رشتہ دار حارث اُٹھے اور اور اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم بی بی کو اُن کے شوہر نے قتل کیا ہے اور خود ہی روپوش ہوگیا ہے۔ عدالت نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو ریکارڈ سمیت تیئس جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

اسی بارے میں