اولمپکس:’تمغے کی امید حقیقت پسندی نہیں‘

خرم انعام تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’بھارت میں سرکاری سرپرستی اور پیسے کی فراوانی نے رائفل شوٹنگ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے‘

خرم انعام کو اس بات کی خوشی ہے کہ وہ تیسری مرتبہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سے تمغے کی امید رکھنا درست نہ ہوگا، کیونکہ رائفل شوٹنگ میں پاکستان باقی دنیا سے بہت پیچھے ہے۔

خرم انعام سکیٹ رائفل شوٹر ہیں اور اس سے قبل وہ سڈنی اور ایتھنز اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

’میں جس ایونٹ میں حصہ لے رہا ہوں اس میں دنیا کے تیس پنتیس صف اوّل کے شوٹر موجود ہونگے جو گزشتہ اولمپکس ختم ہوتے ہی اس اولمپکس کی تیاری کرتے آئے ہیں ان کے پاس کوچنگ اور ٹریننگ کی مکمل سہولتیں موجود ہیں اور جدید اسلحہ اور سازوسامان بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کی تیاری کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ ایسے میں یہ سوچ لینا کہ میں میڈل جیت لوں گا حقیقت پسندی نہیں لیکن میری پوری کوشش ہوگی کہ اچھی کارکردگی کے ذریعے پہلے پندرہ یا دس شوٹر میں جگہ بنا سکوں۔‘

خرم انعام کو اس بات کا بھی بخوبی احساس ہے کہ پاکستان میں شوٹنگ سپورٹس بہت مہنگا شوق ہوتا جا رہا ہے جس کے اخراجات پورے کرنا اب متمول لوگوں کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔

’پاکستان میں اس کھیل کو نہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے نہ ہی سپانسرشپ میسر ہے۔ شوٹنگ میں استعمال ہونے والا جدید اسلحہ اور اس کا گولہ بارود بہت مہنگا ہے اور اسے یہاں منگوانے پر بہت ہی بھاری ڈیوٹی ادا کرنی ہوتی ہے ایسے میں جو لوگ اس کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں یہ انہی کا حوصلہ ہے۔‘

خرم انعام اپنی مثال دیتے ہیں کہ سپانسرشپ نہ ہونے کے سبب وہ بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدگی سے شرکت بھی نہیں کر سکتے۔

’سال میں چار پانچ انٹرنیشنل ایونٹ ہوتے ہیں لیکن میں سال دو سال میں ایک دو ایونٹ ہی میں شرکت کے قابل ہوتا ہوں کیونکہ ٹکٹ اور غیرممالک میں ٹھہرنے کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہے، یہی نہیں بلکہ اس کھیل کے سازوسامان کے مہنگا ہونے کے سبب انہیں اپنی معمول کی ٹریننگ بھی کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔‘

خرم انعام کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرکاری سرپرستی اور پیسے کی فراوانی نے رائفل شوٹنگ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔

’بیجنگ اولمپکس میں شاندار نتائج کے بعد بھارت نے اپنے شوٹروں کی کوچنگ اور ٹریننگ پر بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے یہاں تک کہ انہیں ڈیوٹی کے بغیر اسلحہ اور گولہ بارود منگوانے کی سہولت بھی دے رکھی ہے ایسی صورت میں اگر اس بار بھی بھارتی شوٹر میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے تو اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہوگی۔‘

خرم انعام کے خیال میں اگر منصوبہ بندی کی جائے تو پاکستان میں بھی رائفل شوٹنگ کو منظم انداز میں استوار کیا جا سکتا ہے۔

’پاکستان کو اگر بین الاقوامی معیار تک پہنچنا ہے تو پاکستان رائفل شوٹنگ ایسوسی ایشن کو اگلے اولمپکس ذہن میں رکھ کر ایک پروگرام تیار کرنا ہوگا جس کے تحت شوٹروں کی ٹریننگ کے لیے کوچ کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس کے لیے اسے حکومت سے رابطہ کر کے سرکاری سرپرستی حاصل کرنی ہوگی۔ ایسوسی ایشن جونیئر اکیڈمی قائم کر رہی ہے جس میں ائرگن کی تربیت دی جائے اور سکول اور کالج کے لڑکوں کو اس جانب راغب کیا جائے۔‘

اسی بارے میں