فخرالدین جی ابراہیم کو چیلینجز کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان کی آخری خواہش آزادانہ انتخابات کرانا ہے: فخرالدین جی ابراہیم

پاکستان میں نئے چیف الیکشن کمشنر کے طور پر فخرالدین جی ابراہیم پیر کو حلف اٹھار رہے ہیں اور ان کی تقرری پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔

انیس سو تہتر کے آئین کے بعد پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں قدرِ غیر جانبدار انتخابات ہوں گے اور اس کے نتائج کو شاید چیلینج نہ کیا جا سکے۔

غیر متنازع اور اصولوں کی پاسدار شخصیت

پاکستان جیسے معاشرے میں فخرالدین جی ابراہیم جسیے لوگ گِنے چُنے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقرری کو حکومتی اتحاد کی جماعتیں ہوں یا اپوزیشن کی، سب ایک بہت بڑا سنگِ میل قرار دے رہے ہیں اور ان سے سول سوسائٹی اور عام لوگوں کی بھی بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔

فخرالدین جی ابراہیم المعروف فخرو بھائی ایک کھلے ڈلے مزاج کی شخصیت ہیں اور ماضی میں بطور سپریم کورٹ کے جج، وزیر قانون، اٹارنی جنرل یا سندھ کے گورنر کے عہدوں سے انہوں نے اس وقت استعفیٰ دے دیا جب انہیں اپنے ضمیر اور سوچ کے مطابق الٹ کرنے کو کہا گیا۔

پاکستانی سیاست میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور آئندہ عام انتخابات میں انہیں روکنا، سیاسی جماعتوں کو قواعد کے مطابق عمل کے لیے پابند کرنا اور بلا تفریق ضابطہ اخلاق اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی جماعتوں اور طاقتور افراد کے خلاف کارروائی کرنا ان کے لیے بہت بڑے چیلینجز ہیں۔ لیکن اب کی بار فخرو بھائی کے پاس مستعفی ہو کر جان چھڑانے کا آپشن نہیں کیونکہ وہ خود ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کی آخری خواہش آزادانہ انتخابات کرانا ہے۔

پاکستان میں آزادانہ انتخابی عمل کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’فیفن‘ کے سربراہ مدثر رضوی کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کے لیے سفارشات کو قانونی شکل دینا لازم ہے اور تمام جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر پارلیمان سے منظوری لیں۔

مدثر رضوی کہتے ہیں کہ انتخابی عمل میں شریک عملے کے خلاف کارروائی کا الیکشن کمیشن کو اختیار ہونا چاہیے اور گڑ بڑ کرنے والے اہلکاروں کو انڈیا کی طرح سزا دینے اور ترقی کے لیے نا اہل کرنے یا ملازمت سے برطرف کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ ان کے بقول نتائج اور گنتی کا عمل تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ریٹرننگ افسر کی سطح پر حتمی تصور کیا جائے۔

امیدواروں کے درمیاں یا فریقین میں تنازع حل کرنے کا طریقہ کار بہتر بنایا جائے اور برسوں کے بجائے معاملات مہینوں میں طے ہونے چاہیے۔ ووٹر فہرستوں میں دور دراز علاقوں میں اب بھی ’فیفن‘ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دو کروڑ افراد نے شناختی کارڈ نہیں بنوائے اور ان کے ووٹ بھی درج نہیں۔ مدثر رضوی کے بقول اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

لیکن الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کہتے ہیں کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سب سے بڑا چیلینج نئے ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی اور از سر نو حلقہ بندیاں کرنا ہیں۔ حلقہ بندیوں کا معاملہ بہت ہی پیچیدہ اور متنازع رہا ہے اور ایگ جماعت خوش ہوتی ہے تو دوسری شور مچاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کے لیے سفارشات کو قانونی شکل دینا لازم ہے: مدثر رضوی

ان کے بقول’جب سے سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے ججوں کو بطور ریٹرننگ افسر نہ لگانے کی پالیسی جاری کی ہے اس کے بعد اب ریٹرننگ افسر بیوروکریسی سے لینے ہوں گے اور بیورو کریسی پہلے ہی سیاست زدہ ہے اور ان کی نگرانی میں انتخابات پر سوالات اٹھیں گے اور یہ بھی ایک بڑا چیلینج ہوگا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کے ’واچ ڈاگ‘ والے کردار کی وجہ سے سنہ دو ہزار تیرہ کے انتخابات ماضی کی نسبت منفرد ہوں گے۔ کیونکہ ان کے بقول پہلی بار کروڑوں نوجوان ووٹ ڈالیں گے اور ووٹر فہرستیں بھی کمپیوٹرائزڈ ہیں۔

کنور دلشاد نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ’بنگلادیش ماڈل‘ کے تحت ضابطہ اخلاق میں کچھ نکات شامل کروائے ہیں جس میں امیدوار کے اخراجات اور بیلٹ پیپر میں یہ کالم شامل کرنا کہ ووٹر انتہائی ناپسندیدہ امیدوار کی نشاندہی بھی کریں۔ ان پر عمل کرانا بھی الیکشن کمیشن کے لیے چیلینج ہوگا۔

لیکن کنور دلشاد ہوں یا مدثر رضوی دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ فخرالدین جی ابراہیم کو اپنے کردار کی وجہ سے عدلیہ، میڈیا، اپوزیشن اور نگران حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہوگی اس لیے وہ ایک با اختیار چیف الیکشن کمشنر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں