نئے چیف الیکشن کمشنر نے عہدے کاحلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ پانچ سال کے لیے ہوگا اس سے پہلے اس عہدے کی معیاد تین سال کے لیے تھی

پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا۔

نئے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ پانچ سال کے لیے ہوگا اس سے پہلے اس عہدے کی معیاد تین سال کے لیے تھی۔

رواں ماہ تیرہ جولائی کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے فخرالدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

پاکستان میں حکمران اتحاد اور پارلیمنٹ میں موجود حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے درمیان سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کو بطور چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

فخر الدین جج ابراہیم سپریم کورٹ کے جج کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، گورنر سندھ، اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ گورنر، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے عہدوں سے انھوں نے حکومت سے اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

حلف برداری کے بعد الیکشن کمیشن کے ملازمین سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’نئی نسل کو ایک خوشحال اور جمہوری پاکستان سونپ کر جانا میرا خواب ہے اور الیکشن کمیشن اس خواب کو سچ کر دکھا سکتا ہے‘۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ’ہمارا صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے اور وہ آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے ذریعے عوامی سطح پر انصاف فراہم کیا جائے تاکہ کوئی الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر انگلی نہ اٹھا سکے‘۔

فخرالدین جی ابراہیم نے چند دن پہلے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ان کی پہلی اور آخری ترجیح ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی ترجیحات سے متعلق سوال کے جواب میں فخرالدین جی ابراہیم نے کہا تھا کہ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ووٹرز کی فہرست درست ہے یا نہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے اس کو میکینائزڈ کردیا جائے۔

ملک میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ کافی عرصے سے خالی تھا اور حامد علی مرزا کے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس عہدے پر سپریم کورٹ کے ججز نے قائم مقام الیکشن کمشنر کے طور پر بھی کام کیا۔ ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے علاوہ جسٹس میاں شاکراللہ جان بھی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فخرالدین جی ابراہیم کے نام پر اتفاق رائے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کے درمیان لندن میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کی تکمیل کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

اسی بارے میں