کراچی: چین کے قونصل خانے کے قریب دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بم ڈسپوزل کے اہلکار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بم کس نوعیت کا تھا اور کتنا وزنی تھا

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کے علاقے کلفٹن میں چین کے قونصل خانے کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم لشکر بلوچستان نے کراچی میں چینی قونصلیٹ کے قریب بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ چینی قونصل خانے کے قریب واقع پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینیجمنٹ کے سامنے کھڑی موٹرسائیکلوں میں ہوا۔

دھماکے سے موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اب تک اطلاع نہیں ملی ہے۔

ایس ایس پی جنوبی آصف اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ بم ایک موٹرسائیکل میں نصب تھا جس کے پھٹنے سے تین موٹرسائیکلوں اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق پولیس افسر کا کہنا ہے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اِس دھماکے کا نشانہ کون تھا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکا ہے اور بم ڈسپوزل کے اہلکار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بم کس نوعیت کا تھا اور کتنا وزنی تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس گیارہ مئی کو کراچی میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے سعودی عرب کے قونصل خانے پر دو دستی بم پھینکے تھے لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

کالعدم تنظیم لشکر بلوچستان کے ترجمان لونگ بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں چینی قونصیلٹ کو بلوچ سرمچاروں (عسکریت پسندوں) نے نشانہ بنایا اور یہ حملہ چین کے لیے وارننگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت دیگر سامراجی قوتیں بلوچ وسائل لوٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ معاہدے کررہی ہیں اور یہ معاہدے بلوچ قوم کےلیے ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم چین سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ بند کرکے فوری طوربلوچستان سے اپنے انخلاء کو یقینی بنائیں بصورت دیگر بلوچستان میں ان کے اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور ہماری اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔”

اسی بارے میں